رسائی کے لنکس

غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ شجائیہ کے علاقے میں اسرائیل کی گولہ باری سے اتوار کو کم ازکم 40 افراد ہلاک ہوئے جب کہ ہزاروں افراد علاقے سے منتقل ہو رہے ہیں۔

اسرائیل نے اتوار کو غزہ میں اپنی زمینی کارروائی کو بڑھا دیا جب کہ عسکریت پسندوں کی طرف سے یہودی ریاست پر راکٹ داغنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

حماس اور اسرائیل کے درمیان گزشتہ دو سالوں میں یہ بدترین لڑائی ہے اور تاحال اس کے خاتمے کی سفارتی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکی ہیں۔

غزہ میں حکام کا کہنا ہے کہ شجائیہ کے علاقے میں اسرائیل کی گولہ باری سے اتوار کو کم ازکم 40 افراد ہلاک ہوئے جب کہ ہزاروں افراد علاقے سے منتقل ہو رہے ہیں۔

حکام کے بقول 13 روز سے جاری لڑائی میں مرنے والوں کی تعداد تقریباً 400 تک پہنچ گئی ہے جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ اسرائیل کی طرف اب تک پانچ فوجی اور دو شہری ہلاک ہوئے۔

غزہ میں مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی بحری اور بری افواج نے ساحلی علاقے میں شدید گولہ باری کی۔

اسرائیل نے دس روز تک فضائی حملوں کے بعد جمعرات کو غزہ میں زمینی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اتوار کو اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ اس نے مزید فوجی علاقے میں بھیجے ہیں اور وہ حماس کے زیر استعمال سرنگوں اور اسلحے کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

جنگ بندی کے لیے مصر، قطر، فرانس اور اقوام متحدہ کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہو سکے ہیں۔

اتوار کو فلسطین کے صدر محمود عباس اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے درمیان قطر میں ملاقات متوقع ہے۔

ادھر امریکہ کے صدر براک اوباما نے اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری لڑائی کو روکنے میں مدد کے لیے وزیرخارجہ جان کیری کو مشرق وسطیٰ بھیجنے کا عندیہ دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسٹر کیری مصر کی طرف سے تجویز کردہ جنگ بندی کے منصوبے کی حمایت حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG