رسائی کے لنکس

مغربی کنارے میں 90نئےمکانات کی تعمیر کی منظوری


فائل

فائل

اسرائیلی وزارت دفاع نے اعلان کیا ہے کہ یہ مکانات بیت اہل میں تعمیر ہوں گے، جو شمالی یروشلم میں واقع ایک اہم یہودی بستی ہے، جن میں تدریسی اسٹاف رہائش اختیار کرے گا

ایسے میں جب امریکی صدر براک اوباما کا دورہ قریب ہے، اسرائیل نے پیر کے روز مقبوضہ مغربی کنارے میں آبادکاروں کے لیے 90 نئے مکانات کی تعمیر کی حتمی منظوری دے دی ہے۔

اسرائیلی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ یہ مکانات بیت اہل میں تعمیر ہوں گے، جو کہ شمالی یروشلم میں ایک اہم یہودی بستی ہے، جہاں تدریسی اسٹاف رہائش اختیار کرے گا۔

وزیر اعظم بینجامن نتن یاہو نے عہد کیا ہے کہ بالآخر بیت اہل میں 300 نئے گھر تعمیر ہوں گے، جہاں پچھلے سال جون میں سپریم کورٹ کے ایک حکم پر 30آبادکار خاندان بے دخل ہوئے تھے، جہاں پر اُنھوں نے غیر قانونی طور پر نجی فلسطینی زمین پر قبضہ کرلیا تھا۔

مغربی کنارے میں تعمیرات کی پالیسی کے معاملے پر بین الاقوامی طور پر اسرائیل پر تنقید کی جارہی تھی، جس میں اُس کا کلیدی اتحادی امریکہ بھی شامل ہے۔

یہ وہ علاقہ ہے جس میں 1967ء کی لڑائی کےبعد اسرائیل نے قبضہ کرلیا تھا، جسے فلسطینی اپنی آئندہ کی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں۔

بستیوں کی تعمیر کو وسعت دینے کا معاملہ نیتن یاہو اور اوباما کے درمیان تعلقات کے سلسلے میں تناؤ کا باعث بنا ہوا ہے، جو موسم بہار میں اسرائیل اور مغربی کنارے کا دورہ کرنے والے ہیں۔

دونوں اسرائیل اور امریکہ اب تک اِن افواہوں کو نظرانداز کرتے آئے ہیں جن میں اس خیال کا اظہار کیا گیا ہے کہ اس دورے کے نتیجے میں امریکی قیادت میں فلسطینیوں کے ساتھ ہونے والے امن مذاکرات بحال ہوجائیں گے، جو بستیوں کی تعمیر کے سوال پر 2010ء میں تعطل کا شکار ہوگئے تھے۔

بیت اہل میں نئے مکانات کی تعمیر کے بارے میں ایک بیان میں، فلسطینی صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ اس بارے میں فلسطینی مؤقف بالکل واضح ہے اور وہ یہ کہ جب تک بستیوں کی تعمیر جاری رہے گی، مذاکرات نہیں ہوسکتے۔
XS
SM
MD
LG