رسائی کے لنکس

اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے مذاکرات کار اسی صورت قاہرہ جائیں گے کہ حماس اسرائیل پر راکٹ داغنا بند کردے۔

<p dir="RTL">اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ حماس کی راکٹ باری جاری رہنے کی صورت میں غزہ میں جنگ بندی مذاکرات میں دوبارہ شرکت نہیں کرے گا۔</p> <p dir="RTL">مصر نے فریقین میں جنگ بندی کے لیے اپنے ہاں مذاکرات شروع کیے تھے لیکن جمعہ کو تین روزہ جنگ بندی ختم ہونے کے بعد اسرائیل کی فضائی کارروائی اور حماس کی طرف سے راکٹ داغنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔</p> <p dir="RTL">قاہرہ میں فلسطینی وفد کے سربراہ کی طرف سے بھی یہ بیان سامنے آیا کہ وطن لوٹ جانے والے اسرائیلی وفد کی قاہرہ واپسی تک وہ بھی مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔</p> <p dir="RTL">اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے مذاکرات کار اسی صورت قاہرہ جائیں گے کہ حماس اسرائیل پر راکٹ داغنا بند کر دے۔</p> <p dir="RTL">وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے اتوار کو ایک بار پھر کہا کہ &quot;ان کا ملک راکٹوں کے سائے میں مذاکرات نہیں کرے گا&quot; اور ان کی فوج کی کارروائیاں&quot; جاری رہیں گی۔&quot;</p> <p dir="RTL">اتوار کو غزہ میں اسرائیلی بمباری سے تین فلسطینی ہلاک ہوگئے جن میں ایک خاتون اور ایک 14 سالہ لڑکا بھی شامل ہیں۔</p> <p dir="RTL">اسرائیلی حکام کے مطابق جمعہ کو جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے حماس نے ایک سو راکٹ اسرائیل پر داغے جب کہ اسرائیلی فضائیہ نے &quot;دہشت گردوں کے 120 ٹھکانوں اور نو کارکنوں کو&quot; نشانہ بنایا۔</p> <p dir="RTL">آٹھ جولائی کو شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک 1900 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت عام شہریوں کی ہے جب کہ اسرائیل کے 64 فوجی اور تین شہری ہلاک ہوئے۔</p> <p dir="RTL">مصر میں ہونے والے بالواسطہ مذاکرات میں دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات برقرار رہے۔ اسرائیل حماس کو غیر مسلح جب کہ فلسطین غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کرتا آرہا ہے۔</p>

XS
SM
MD
LG