رسائی کے لنکس

اِنٹر پول نے حماس کے کمانڈر کے مبینہ قاتلوں کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا


اِنٹر پول نے حماس کے کمانڈر کے مبینہ قاتلوں کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا

اِنٹر پول نے حماس کے کمانڈر کے مبینہ قاتلوں کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا

بین الاقوامی پولیس ایجنسی انٹر پول نے پچھلے مہینے دوبئى میں حماس کے ایک کمانڈر کے قتل کے سلسلے میں ایک نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 مشتبہ افراد کو مطلوبہ ملزم قرار دے دیا ہے۔

انٹر پول نے دوبئى کے حکام کی درخواست پر جمعرات کے روز یہ انتباہ جاری کیا ہے، جسے رَیڈ یعنی ”سرخ نوٹس“ کہاجاتا ہے۔ایجنسی نے اپنی وَب سائٹ پر کہا ہے کہ یہ 11 مشتبہ افراد، حقیقی لوگوں کی چُرائى ہوئى شناختوں کے حامل جعلی پاسپورٹوں کے ساتھ دوبئى میں داخل ہوئے تھے۔

انٹر پول نے کہا ہے کہ بین الاقوامی نوٹس یا اشتہار کا مقصد قاتلوں کی جعلی پاسپورٹوں کے ساتھ آزادی کے ساتھ سفر کرنے کی صلاحیت کو محدود کرنا ہے۔

دوبئى کی پولیس کا کہنا ہے کہ اُسے 99 فیصد یقین ہے کہ جاسوسی کے لیے اسرائیلی ایجنسی موساد نے حماس کے کمانڈر محمود المبحوح کو قتل کرنے کے لیے اپنے ایجنٹوں کو متحدہ عرب امارات بھیجا تھا۔

اسرائیل نے اس واقعے میں اپنے ملوّث ہونے کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید۔

دوبئى کا کہنا ہے کہ ان مشتبہ افراد میں سے چھ کے پاس برطانوی پاسپورٹ تھے، تین کے پاس آئر لینڈ کے اور باقی دو میں سےایک کے پاس جرمنی اور دوسرے کے پاس فرانس کا پاسپورٹ تھا۔

برطانیہ، آئر لینڈ اور فرانس نے جمعرات کے روز قاتلوں کی جانب سے جعلی پاسپورٹوں کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور انہوں نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کے وہ ان تینوں ملکوں کی جانب سے اس معاملے کی چھان بین میں تعاون کرے۔

برطانیہ اور آئر لینڈ ، دونوں کی حکومتوں نے جمعرات کے روز اس قتل کے بارے میں سوالات کرنے کے لیے اپنے دارالحکومتوں میں اسرائیل کے سفیروں کو طلب کیا۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اسرائیلی اور برطانوی، دوہری شہریت رکھنے والے چھ افراد کے حوالے سے کہا ہے کہ اُن کی شناختوں یعنی نام ، تاریخِ پیدائش اور گھر کے پتے جیسی ذاتی اطلاعات کو چُرایا گیا تھا اور پھر اُنہیں اُن جعلی پاسپورٹوں میں استعمال کیا گیا تھا جو مبیّنہ قاتلوں نے دوبئى جانے کے لیے استعمال کیے تھے۔

اسرائیلی انٹیلی جینس کے بعض سابق اہل کاروں کا کہنا ہے کہ ہلاک کرنے کے لیے جو طریقے اختیار کیے گئے، وہ اُن طریقوں سے مطابقت رکھتے ہیں ، جو موساد ماضی میں استعمال کرتی رہی ہے۔

اسی دوران حماس کے عہدے داروں نے جمعرات کے روز کہا ہے کہ اُنہیں شبہ ہے کہ اُن کے حریف فلسطینی گروپ فتح کے دوارکان نے مبحوح کو قتل کرنے میں اسرائیل کی مدد کی تھی۔

عہدے داروں نے کہا ہے کہ یہ دونوں فلسطینی تین سال پہلے غزہ کی پٹی میں فتح کی سکیورٹی فورس میں کام کرتے تھے۔ 2007 میں حماس کی مسلح شاخ نے علاقے میں فتح کو اقتدار سے محروم کردیا تھا۔حماس کے عہدے داروں نے کہا ہے کہ ان دونوں فلسطینیوں کو حال ہی میں اُردن میں گرفتار کیا گیا تھا اور پھر اُنہیں دوبئى بھیج دیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG