رسائی کے لنکس

فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کی تازہ فضائی کارروائی میں ایک خاتون اور تین بچوں سمیت کم ازکم سات افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیل اور حماس مں جنگ بندی مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے کے بعد منگل کو رات گئے شروع ہونے والی لڑائی بدھ کو بھی جاری ہے۔

فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل کی تازہ فضائی کارروائی میں ایک خاتون اور تین بچوں سمیت کم ازکم سات افراد ہلاک ہوئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کی طرف سے اسرائیل پر کم ازکم 40 راکٹ داغے جانے کے بعد غزہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

فوج کے مطابق یہ راکت جنوبی شہروں بئر السبع، عسقلان اور مرکزی شہر یروشلم کے قریب گرے۔

حکومتی ترجمان مارک ریجوو نے حماس پر جنگ بندی معاہدہ توڑنے کا الزام عائد کیا۔

"آج ہمارے شہر بئرالسبع پر راکٹ حملہ جنگ بندی کی براہ راست اور سنگین خلاف ورزی ہے جو کہ حماس نے خود کی۔ یہ گیارہویں جنگ بندی تھی جسے حماس نے یا تو مسترد کیا یا اس کی خلاف ورزی کی۔

حماس کے عہدیداروں نے اسرائیل پر راکٹ داغنے کے الزام کو مسترد کیا۔ ترجمان سمیع ابو ظہری نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام اسرائیل پر عائد کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کے فضائی حملوں کا مقصد قاہرہ میں ہونے والے مذاکرات سے نکلنا تھا۔ ان کے بقول اسرائیل کی طرف سے ناکہ بندی صورتحال اور اس کے نتائج کی ذمہ دار ہے۔

پانچ ہفتوں تک جاری رہنے والی لڑائی کے بعد لگ بھگ ایک ہفتے کی جنگ بندی کے دوران اپنا گھر بار چھوڑنے والے فلسطینی اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج کے مطابق غزہ میں لگ بھگ 30 مخلتف ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا اور اس کے بقول یہ مقامات راکٹ حملے کے لیے استعمال کیے جارہے تھے۔

غزہ میں عہدیداروں کے بقول ان حملوں میں 50 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

آٹھ جولائی کو شروع ہونے والی لڑائی کے دوران 2000 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں جن میں سے اسرائیل کے 69 افراد بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG