رسائی کے لنکس

اسرائیلی فوج کے کچھ ارکان کی خفیہ ڈیوٹی سے معذرت: رپورٹ


فائل

فائل

اسرائیلی فوج نے اخبار ’یدیوت اہرونوت‘ میں جمعے کے روز شائع ہونے والے اس مراسلے کو مسترد کرتے ہوئے، اُسے فوجی ارکان کی ایک ’انتہائی تھوڑی‘ سی تعداد کی طرف سےاختیار کردہ تشہیر کا ایک حربہ قرار دیا ہے

اسرائیل کےخصوصی تربیت یافتہ انٹیلی جنس دستے کے درجنوں ’رِزرو‘ فوجیوں نے حکومت کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں خدمات بجا لانے سے معذرت کا اظہار کیا ہے، یہ کہتے ہوئے کہ اِس کام میں فلسطینیوں کی خفیہ سن گن لینا درکار ہوتا ہے۔

اخبار ’یدیوت اہرونوت‘نے جمعے کے روز یہ خط شائع کیا ہے، جو 43 فوجیوں نے وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو اور ملکی فوج کے سربراہ کو تحریر کیا ہے۔ یہ فوجی، جن کے دستے کو 8200 یونٹ کے نام سے جانا جاتا ہے، کہا ہے کہ، اُن کے خیال میں، گفتگو سننے کے عمل کے نتیجے میں فلسطینیوں کے لیے عام زندگی گزارنا دشوار ہوجاتا ہے۔

اِن فوجیوں کے بقول، اُن کی طرف سے انکار کا سبب اخلاقی نوعیت کا ہے۔

اسرائیلی فوج نے مراسلے کو مسترد کرتے ہوئے، اُسے فوجی ارکان کی ایک ’انتہائی تھوڑی‘ سی تعداد کی طرف سےاختیار کردہ تشہیر کا ایک حربہ قرار دیا ہے۔

دستخط کرنے والوں کے نام شائع نہیں کیے گئے۔

یونٹ 8200کے فوجی صیغہٴراز میں رکھے جانے والے سمجھوتے پر دستخط کرنے کے بعد ہی اپنی انٹیلی جنس کی خدمات انجام دیتے ہیں، جن میں دشمن ملکوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی بھی شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG