رسائی کے لنکس

اسرائیلی وزیردفاع ایران سے متعلق بدستور سخت موقف پر قائم

  • اسکاٹ باب

اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک

اسرائیلی وزیردفاع ایہود باراک

اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں اپنی حکومت کا سخت موقف برقرار رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو مذاکرات کی آڑ میں فریب نہیں دیا جا سکتا اور ایران پر حملہ خارج از امکان نہیں ہے ۔ لیکن اسرائیل کی سیکورٹی سروسز کے سرکردہ ارکان نے ایران کے خلاف فوجی حملے اور اس کے نتائج کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔

پیر کے روز اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود باراک نے اعتراف کیا کہ ایران کے خلاف سخت پابندیوں سے ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان، جنہیں P-5 +1 کہا جاتا ہے، مذاکرات دوبارہ شروع کرنے میں مدد ملی ہے ۔ P-5 +1 کا گروپ روس، چین، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور امریکہ پر مشتمل ہے۔

ایہود باراک نے کہا’’آج کل جو پابندیاں عائد ہیں وہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہیں ۔ ان کی وجہ سے ایرانی بات کرنے پر مجبور ہوئے ۔ تا ہم ، P-5+1 اور ایران کے درمیان رابطے سے میرے اعتماد میں کچھ زیادہ اضافہ نہیں ہوا۔ ممکن ہے کہ آپ محسوس کریں کہ مجھ پر قنوطیت طاری ہے لیکن اسرائیل کسی فریب کا شکار ہونے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا۔ ‘‘

ایہود باراک نے ایرانی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تا کہ اس کا مبینہ نیوکلیئر اسلحہ کا پروگرام فوجی حملوں سے محفوظ ہو جائے ۔
اسرائیلی وزیرِ دفاع ایران کی نیوکلیئر سرگرمیوں کے خلاف وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو کے سخت موقف کے پُر جوش حامیوں میں شامل ہیں۔ اسرائیل کا خیال ہے کہ ایران کی نیوکلیئر سرگرمیوں کا مقصد نیوکلیئر ہتھیاروں کی تیاری ہے ۔

لیکن اسرائیل کی سیکورٹی سروسز کے لیڈروں نے اس بارے میں سخت شبہے کا اظہار کیا ہے کہ فوجی کارروائی ایران کی مشتبہ سرگرمیوں کو روکنے میں موئثر ثابت ہو سکتی ہے ۔

مغربی طاقتوں نے حال ہی میں یہ اشارہ دیا ہے کہ ایران کو یورینیم کو افژودہ کرنے کی اتنی صلاحیت باقی رکھنے کی اجازت دے دی جائے جو نیوکلیئر ادویہ اور بجلی کی پیداوار کے لیے ضروری ہو۔ ان کے خیال میں فوجی حملہ صرف ایسی صورت میں کیا جانا چاہیئے جب کوئی اور چارہ نہ ہو۔

لیکن باراک نے یروشلم میں غیر ملکی صحافیوں سے کہا کہ ان کی نظر میں، ایران پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔’’اپنے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں ، ایران کا فریب اور جھوٹ مسلسل جاری ہے اور اس کا دستاویزی ثبوت موجود ہے ۔ پھر بھی ، دنیا کے بعض حصوں میں، اور ان میں کچھ اسرائیلی شخصیتیں بھی شامل ہیں جن کی اپنی سیاسی مصلحتیں ہیں، اس طرف سے آنکھیں بند رکھنے کو ترجیح دی جاتی ہے۔‘‘

ایران نے کہا ہے کہ اگر اس پر حملہ کیا گیا تو وہ جوابی کارروائی کرے گا۔ لیکن باراک نے کہا کہ جب تک ایران اپنے اسرائیل کو تباہ کرنے کے مقصد پر قائم رہتا ہے، اور بین الاقوامی دہشت گردی کی حمایت کرتا رہتا ہے، اسے نیوکلیئر طاقت بننے سے روکنا ضروری ہے ۔

’’فوجی طاقت استعمال کرنے کی راہ آسان نہیں ہے ۔ اس سے پیچیدگیاں پیدا ہوں گی اور بعض خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن ایران کی انتہا پسند اسلامی ریپبلک جس کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہوں، وہ علاقے کے لیے، بلکہ ساری دنیا کے لیے کہیں زیادہ خطرناک ہو گی۔‘‘

انھوں نے کہا کہ وزیرِ دفاع کی حیثیت سے ان کی بنیادی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ اسرائیل کا مقدر خود اس کے اپنے ہاتھوں میں رہے ۔

پھر بھی، اسرائیل میں کچھ لوگوں کی ترجیح یہ ہے کہ انتظار کیا جائے اور دیکھا جائے ۔ اسرائیل میں ایران کے تجزیہ کار ایتان لیونی کہتے ہیں کہ پابندیوں کو کارگر ہونے کا موقع دیا جانا چاہیئے ۔

’’پابندیوں کا مقصد یہ ہے کہ فوجی طاقت کا استعمال جو اس صورت میں کیا جائے گا جب کوئی اور چارہ نہ ہو، غیر ضروری ہو جائے گا ۔ لہٰذا اس سے پہلے کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ پابندیاں ناکام ہو گئی ہیں، ہمیں انہیں پوری طرح آزمانا چاہیئے۔‘‘

وہ کہتے ہیں کہ اگر پابندیاں ناکام ہو جائیں، تو پھر بین الاقوامی برادری کو اپنی حکمت عملی کا از سر نو جائزہ لینا چاہیئے۔ لیکن سیاسی تجزیہ کاروں نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ اسرائیل میں انتخابی مہم شروع ہونے والی ہے ۔ حزبِ اختلاف کے بہت سے لیڈروں نے اگلے چھ مہینوں میں پارلیمینٹ کو برطرف کرنے اور انتخابات منعقد کرنے کا مطالبہ شروع کر دیا ہے ۔

ہیبرو یونیورسٹی کے پروفیسر ابراہم ڈسکن کہتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں، ایران پر حملہ کرنے کا سوال پس پشت جا پڑے گا اور امیدواروں اور ووٹرز کی توجہ داخلی مسائل پر ہوگی ۔

’’میں نہیں سمجھتا کہ اسرائیل اپنے کسی اقدام کا فیصلہ داخلی یا انتخابی سیاست کی بنیاد پر کرے گا۔ یہ مسئلہ بہت اہم ہے ۔ یہ معاملہ اسرائیل کے وجود کے لیے بہت اہم ہے، اور دوسری طرف اس معاملے میں خطرات بہت زیادہ ہیں ۔‘‘

وہ کہتےہیں کہ اگرچہ سیاسی لیڈروں کو فوجی حملے سے عارضی طور پر فائدہ پہنچ سکتا ہے، لیکن انتخابی مہم کے دوران وہ کسی دوسرے ملک میں اتنا پُر خطر اقدام نہیں کریں گے ۔

آخری بات یہ ہے کہ امریکہ میں صدارت کی انتخابی مہم سے بھی ایران پر فوجی حملے کا امکان متاثر ہو رہا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل میں نصف سے کم لوگ کسی کی مدد کے بغیر ایران کے خلاف حملہ کرنے کے حق میں ہیں، جب کہ امریکہ کی حمایت سے تقریباً تین چوتھائی لوگ حملہ کرنے کے حامی ہیں ۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام کے بارے میں اپنی حکومت کا سخت موقف برقرار رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسرائیل کو مذاکرات کی آڑ میں فریب نہیں دیا جا سکتا اور ایران پر حملہ خارج از امکان نہیں ہے ۔ لیکن اسرائیل کی سیکورٹی سروسز کے سرکردہ ارکان نے ایران کے خلاف فوجی حملے اور اس کے نتائج کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔
XS
SM
MD
LG