رسائی کے لنکس

ایران پہ اسرائیلی حملے کے خدشات میں اضافہ


اصفہان: جوہری افزودگی تنصیب کے سامنے ایرانی طلبا سراپا احتجاج (فائل)

اصفہان: جوہری افزودگی تنصیب کے سامنے ایرانی طلبا سراپا احتجاج (فائل)

اسرائیل کے وزیرِ دفاع کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے’ دنیا کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے۔‘ یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ امریکی وزیرِ دفاع کو یقین ہے کہ اسرائیل آئندہ پانچ ماہ کے دوران ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردے گا

تہران، یروشلم اور واشنگٹن میں ایران کی جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملے کی قیاس آرائیاں ایک بار پھر زور پکڑ رہی ہیں۔ اطلاعات یہ ہیں کہ جوہری ہتھیار تیار کرنے کی مبینہ ایرانی کوششوں کو روکنے کے لیے اسرائیل کی بے تابی بڑھتی جارہی ہے اور ایک امریکی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملہ اب زیادہ دور نہیں رہا۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود بارک کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے دنیا کے پاس بہت کم وقت رہ گیا ہے جب کہ یہ اطلاعات بھی آرہی ہیں کہ امریکی وزیرِ دفاع لیون پنیٹا کو یقین ہے کہ اسرائیل آئندہ پانچ ماہ کے دوران میں ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کردے گا۔

ایرانی حکام مسلسل مغرب کےان دعووں کی تردید کرتے آئے ہیں کہ تہران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے اور جمعہ کو ایران کے اعلیٰ ترین رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے خبردار کیا کہ اگر ایران کی جوہری تنصیبات پہ حملہ ہوا تو ان کا ملک پوری قوت سے اس کا جواب دے گا۔

مشرقِ وسطیٰ پہ منڈلاتی اس نئی جنگ کے خدشات کے بیچ دیرینہ اتحادیوں، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان اس بحران سے نبٹنے کے طریقہ کار پر اختلافات پائے جاتے ہیں۔

سنہ 2007 میں امریکی کی تمام خفیہ ایجنسیوں کی ایک اعلیٰ ترین مشترکہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ گو کہ ایران جوہری میدان میں تیکنیکی کامیابیاں حاصل کر رہا ہے لیکن تہران حکومت نے ابھی تک جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا فیصلہ نہیں کیا۔

سنہ 2009 میں 'وائس آف امریکہ' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی خفیہ ایجنسی 'سی آئی اے' کے اس وقت کے سربراہ اور موجودہ وزیرِ دفاع لیون پنیٹا نے بھی پیش گوئی کی تھی کہ ایران 2010ء سے 2015ء کے درمیان جوہری قوت بن سکتا ہے تاہم، ان کے بقول، ایران نے تاحال یہ قدم اٹھانے کا فیصلہ نہیں کیا ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ خفیہ اداروں کی جانب سے گزشہ برس دی گئی ایک رپورٹ میں بھی یہی نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ ایران نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کا اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا۔

تاہم امریکی اداروں کی اس رائے سے یروشلم میں بیٹھے فیصلہ ساز متفق نہیں جو ایرانی جوہری پروگرام کو اپنے ملک کی بقا کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی صحافی رونن برگ مین نے موقر امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز ' کی 25 جنوری کی اشاعت میں شامل اپنے ایک مضمون میں اعلیٰ اسرائیلی عہدیداروں کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل ایرانی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے زیادہ انتظار نہیں کرے گا۔

ایران اب تک یورینیم کو 20 فی صد تک افزودہ کر پایا ہے اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے ہتھیاروں میں استعمال کے لیے یورینیم کو کم از کم 90 فی صد تک افزودہ کرنا ہوگا۔

اوباما انتظامیہ فی الوقت ایران کے خلاف کسی فوجی کاروائی کی مخالف ہے اور تہران کو جوہری ہتھیاروں سے باز رکھنے کے لیے ایرانی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی تیل کی صنعت کے خلاف سخت بین الاقوامی پابندیوں کا نفاذ چاہتی ہے۔

خفیہ اداروں سے منسلک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ تعین کرنا بہت مشکل ہوگا کہ ایران نے کب "سرخ لکیر" عبور کرکے جوہری ہتھیاروں کی تیاری شروع کردی ہے کیوں کہ جوہری پروگرام کی بیشتر تیکنیکی سرگرمیاں پرامن اور فوجی مقاصد کے لیے یکساں ہیں۔

سی آئی اے کے ڈائریکٹر ڈیوڈ پیٹریاس نے رواں ہفتے کانگریس کی ایک کمیٹی کو بتایا تھا کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی 90 فی صد تک افزودگی اس بات کی ایک اہم علامت ہوگی کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کی جانب جارہا ہے۔

لیکن جہاں واشنگٹن نے کھل کر وہ حد بیان کردی ہے جسے وہ ایران کے لیے "سرخ لکیر" سمجھتا ہے، اسرائیل اس معاملے میں خاصا محتاط ہے۔

بعض امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اسرائیل کی "سرخ لکیر" ایران کی جانب سے اپنی جوہری تنصیبات کے اہم حصوں کی میزائل اور بم حملوں سے محفوظ زیرِ زمین تنصیبات کو منتقلی ہوسکتی ہے اور تہران کی جانب سے ایسی کسی کوشش پر یروشلم کوئی انتہائی قدم اٹھا سکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG