رسائی کے لنکس

مسودہٴ قانون میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہودی شناخت اور یہودی قانون تشکیل دینے کے حق کو تسلیم کیا جائے، جب کہ بحیثیتِ سرکاری زبان، عربی کا درجہ ختم کیا جائے

اسرائیلی کابینہ نے متنازعہ قانون سازی پر مبنی اُس تجویز کی منظوری دے دی ہے، جس میں اسرائیل کو یہودی عوام کی ریاست قرار دیا گیا ہے۔

منقسم کابینہ نے اتوار کے دِن اِس اقدام کے حق میں فیصلہ دیا۔ تاہم، قانونی درجہ حاصل کرنے کے لیے، اب پارلیمان کو اِس بِل کی منظوری دینا ہوگی۔

بِل میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی یہودی شناخت اور یہودی قانون تشکیل دینے کے حق کو تسلیم کیا جائے، جب کہ بحیثیتِ سرکاری زبان، عربی کا درجہ ختم کیا جائے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کے نتیجے میں، اسرائیل کے جمہوری تشخص کو دھچکا پہنچے گا، جہاں عرب آبادی کا تقریباً 20 فی صد رہتا ہے۔ اُنھوں نے اِس قانون سازی کی شدید مخالفت کی ہے؛ جب کہ، وزیر اعظم بیجامن نیتن یاہو ایسے اقدام کے حق میں ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ ایسا اقدام کرنے سے ’تمام اسرائیلی شہریوں کے بنیادی حقوق سربلند ہوں گے‘۔

تاہم، صرف یہودیوں کو ہی رائے خود ارادیت کا حق حاصل ہوگا۔

اُنھوں نے کہا ہےکہ دنیا بھر کے یہودی کو ترک وطن کرکے اسرائیل آنے کا حق حاصل ہے، جسے اُنھوں نے ’ایک اور واحد ریاست‘ قرار دیا۔

XS
SM
MD
LG