رسائی کے لنکس

ام الفہم کے لوگوں کا مستقبل بدستور غیر یقینی

  • لوئس رمیرز

مشرقِ وسطیٰ کے حتمی امن سمجھوتے کا ایک ممکنہ عنصر یہ ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان زمین کا تبادلہ ہو جائے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی مخلوط حکومتی پارٹی میں دائیں بازو کے کچھ ارکان ایسا سودا کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں جس میں عربوں کی بعض بستیاں جو آج کل اسرائیل کے اندر واقع ہیں، فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کر دی جائیں گی اور اس کے عوض مغربی کنارے کی بعض یہودی بستیاں اسرائیل کا حصہ بن جائیں گی۔ یہ تجویز دونوں میں سے کسی بھی طرف زیادہ مقبول نہیں ہوئی ہے۔

شمالی اسرائیل میں 40 ہزار سے زیادہ آبادی کے قصبے اُمّ الفہم میں، جبریان گھرانے کی مٹھائی بنانے کی فیکٹری میں ایک کارکن فلسطینی انداز کی مٹھائی کے ٹکڑے کاٹ رہا ہے ۔ گاہکوں کا ہجوم ہے اور بیشتر خریدار اسرائیلی یہودی ہیں۔ رمیض جبریان اس فیکٹری میں کام کرتےہیں جو ان کے والد نے قائم کی تھی ۔ وہ اس خیال سے خوفزدہ ہیں کہ ان کا قصبہ اور ان کے گھرانے کی فیکٹری فلسطینی کنٹرول میں جا سکتی ہے ۔

عبرانی زبان میں بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ انہیں ڈر ہے کہ اسرائیل کی طرف سے سرحد پر عائد پابندیوں سے ان کی آزادی ختم ہو جائے گی۔’’ مغربی کنارے میں رہنے والے لوگ اکثر اوقات ہمسایہ ملک اردن میں نہیں جا سکتے اور آزادی سے اسرائیل میں داخل نہیں ہو سکتے۔اگر ام الفہم مغربی کنارے کا حصہ بن جاتا ہے تو انہیں ایک بالکل مختلف دنیا میں ایک بڑے قید خانے جیسے ماحول میں رہنا پڑے گا۔‘‘

جبریان اسرائیل کی عرب اقلیت کے رکن ہیں جس کی تعداد دس لاکھ سے زیادہ ہے ۔ان کا گھرانہ ان فلسطینیوں میں شامل تھا جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد بھی اپنی زمینوں پر رہتے رہے۔ اسرائیل سے الگ ہونے کے بعد انہیں چیک پوائنٹس کے عذاب سے گزرنا ہوگا اور اس سےجبریان جیسے عرب گھرانوں کا کاروبار تباہ ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو گا کہ اس سرزمین پر ان کی موجودگی اور ان کا اثر و رسوخ کم ہو جائے گا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں 1948 سے پہلے عربوں کی تعداد یہودیوں سے دگنی تھی۔ بعض فلسطینی اب بھی یہ خواب دیکھتے ہیں کہ ایک دن آئے گا جب ساری زمین انہیں واپس مِل جائے گی ۔

دائیں بازو کے اسرائیلی سیاست داں زمین کے ادل بدل کے لیے زور لگا رہے ہیں کیوں کہ انہیں تشویش ہے کہ عرب جن کی شرح پیدائش یہودیوں سے اونچی ہے ایک روز یہودی آبادی پر چھا جائیں گے ۔اگر زمین کے تبادلے کا سمجھوتہ ہوا تو اسرائیل مغربی کنارے کے کچھ یہودی بستیوں کو اسرائیل میں شامل کر لے گا لیکن بعض بستیوں کو خالی کرے گا۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ اویگدور لئیبرمین برسوں سے زمین کے تبادلے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ امن سمجھوتے کی خاطر وہ بیت اللحم کے نزدیک مغربی کنارے کی بستی نوکدم میں اپنا گھر بھی خالی کرنے کو تیار ہیں۔

تا ہم نوکدم میں رہنے والے لوگوں، جیسے اتزک کوہن کو یہ انتظام منظور نہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان کا ٹھکانہ یہیں ہے ۔ ماضی کے تجربے سے پتہ چلا ہے کہ اسرائیلیوں کو بستیوں سے نکالنا کامیاب نہیں ہوا ہے اور اس کا کوئی اچھا نتیجہ بر آمدنہیں ہو گا۔ انہیں اور ان کے گھرانے کو یقین ہے کہ انہیں اس بستی کو چھوڑ کر کہیں اور نہیں جانا پڑے گا۔

بعض عرب اسرائیلیوں کو شکایت ہے کہ یہودی مملکت ان کے ساتھ امتیازی سلوک کرتی ہے لیکن وہ پھر بھی اسرائیلی حکومت کے تحت ہی رہنا چاہتے ہیں کیوں کہ ملک کی اقتصادی حالت اچھی ہے اور کاروباری مواقع موجود ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں صحت تعلیم اور دوسرے فوائد دستیاب ہیں جو تمام اسرائیلی شہریوں کو ملتے ہیں۔

جبریان کی مٹھائی بنانے کی فیکٹری کے 70 سالہ مالک محمودجبریان کہتے ہیں کہ زمین کے ادل بدل سے انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے پاس اسرائیلی شہریت ہے لیکن وہ خود کو فلسطینی سمجھتے ہیں اور فلسطینی زمین پر ہی رہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر اسرائیلی ان کی بات سننے کو تیار ہوں تو وہ انہیں بتائیں گے کہ وہ فلسطینی زمین کے بدلے دوسری فلسطینی زمین لے رہے ہوں گے۔

امن مذاکرات کرنے والوں کو جو بہت سے اختلافی مسائل طے کرنے ہیں ان میں ایک اہم مسئلہ سرحدوں کے تعین کا ہے ۔ ام الفہم کے لوگوں کے لیے مستقبل بدستور غیر یقینی ہے ۔

XS
SM
MD
LG