رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ میں مسائل کا حل مذاکرات ،ایک جائزہ

  • سسیلی ہلیری

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں بظاہر کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ بہت سے مبصرین کو فکر ہے کہ امن کا عمل اتنے طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے کہ شاید اب اس کو زندہ کرنا ممکن نہ ہو۔ اس دوران، ایک پرانی تجویز میں نئے سرے سے دلچسپی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ وہ تجویز ہے ایک مملکت کا قیام جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں دونوں کا گھر ہو۔ جنوبی افریقہ میں اس قسم کا حل کامیاب ثابت ہوا ہے۔

یہ کوئی نئی تجویز نہیں ہے ۔ قدیم زمانے میں اسرائیلیوں کی مملکت میں بہت سی نسلوں اور مذاہب کے لوگ مل جل کر رہتے تھے ۔ 1930 کے عشرے میں صیہونیوں نے عربوں اور یہودیوں کی جس کنفیڈریشن کا خاکہ پیش کیا تھا وہ اردن سے بحرِ روم تک پھیلی ہوئی تھی ۔آج کے دور میں اس تصور کے حامی ایک ایسی ریاست کا مطالبہ کرتے ہیں جس میں یہودیوں، عیسائیوں، مسلمانوں ، اور دُروز فرقے کے لوگوں کو اور 40 لاکھ سے زیادہ فلسطینی پناہ گزینوں کو جو آج کل اسرائیل اور مقبوضہ علاقوں کے باہر رہ رہے ہیں، شہریت کے برابر کے حقوق حاصل ہوں گے۔

علی ابونماہ ایک کتاب کے مصنف ہیں جس کا عنوان ہے One Country: A Bold Proposal to End the Israeli-Palestinian Impasse۔ وہ ایک انٹرنیٹ ویب سائٹ، Electronic Intifada کے بانیوں میں بھی شامل ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ دو قوموں پر مبنی ایک ریاست آج کی دنیا میں کوئی خیالی چیز نہیں۔علی ابونماہ کہتے ہیں’’فلسطین،اسرائیل میں پہلے ہی ایک کروڑ دس لاکھ لوگ موجود ہیں۔ ان میں سے نصف اسرائیلی یہودی ہیں اور بقیہ نصف فلسطینی ہیں۔وہاں تقریباً دس لاکھ ایسے لوگوں کی ملی جلی آبادی ہے جسے آپ کسی ایک کیٹگری میں نہیں ڈال سکتے۔عملی طور پر ایک حکومت ہے جو اس ملک کو چلاتی ہے اور وہ اسرائیل کی حکومت ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ یہ ملک کی نصف آبادی کی حکومت ہے ، جو نصف آبادی کے لیے ہے ۔ ‘‘

ابونماہ کہتے ہیں کہ اس ملک کو کئی الگ الگ مملکتوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں برسوں سے جاری ہیں لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ہوئی ہیں اور ان کا نتیجہ مہلک تشدد کی صورت میں نکلا ہے ۔لیکن ایک ایسی مملکت سے جس میں کئی حصے دار ہوں، اس تنازعے میں شامل فریقین کا سیاسی عدم استحکام ختم ہو جائے گا۔

ڈاکٹر حسین ابِش واشنگٹن میں قائم ٹاسک فورس آن فلسطین میں سینیئر فیلو ہیں۔ وہ ایک کتاب What’s Wrong with the One State Agenda کے مصنف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ یہ تجویز ناقابلِ عمل ہے کیوں کی یہودیوں کی اکثریت کبھی اس کی حمایت نہیں کرے گی ۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ فلسطینیوں نے ایسی کوئی تجویز تیار نہیں کی ہے جس سے اسرائیلیوں کے اندیشے دور ہو جائیں۔ ’’فلسطینی یہ امید کریں گے کہ وہ ووٹ کے ذریعے ایک بار پھر اس تمام علاقے پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیں گے جو تاریخی طور پر فلسطین کا حصہ ہے۔ وہ 1948 کے تمام مادی اور سیاسی نقصانات کا مداوا کر لیں۔ فلسطینیوں کے نقطۂ نظر سے یہ مسئلے کا بہترین حل ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس میں یہودی اسرائیلیوں کے لیے کچھ نہیں ہے ‘‘۔

ابِش کہتے ہیں کہ بیشتر اسرائیلی ایک مملکت کے تصور کو مسترد کرتے ہیں کیوں کہ اس میں یہودیوں کی اکثریت نہیں ہوگی اور اس سے اس مذہبی دلیل کی خلاف ورزی ہوگی کہ اسرائیل یہودیوں کا وطن ہے۔

ابِش کا خیال ہے کہ اتنے سارے دھڑوں کو ایک سیاسی چھت تلے جمع کرنے کے لیے بہت زیادہ نسلی اور فرقہ وارانہ جبر و تشدد کرنا ہوگا۔لیکن علی ابونماہ کہتے ہیں کہ ان دلائل میں کوئی جان نہیں ہے ۔ وہ جنوبی افریقہ کی مثال دیتے ہیں جہاں حکمراں سفید فام اقلیت نے سیاہ فام اکثریت کی حکومت میں تشدد اور اقتصادی بربادی کے ڈر سے نسلی امتیاز کے خاتمے کی مزاحمت کی۔سفید فام لوگوں کا خیال تھا کہ جنوبی افریقہ کے سیاہ فام باشندے ان کے خون کے پیاسے ہیں اور وہ کمیونسٹ ہیں۔ آپ اسرائیلی یہودیوں سے بھی بالکل اسی قسم کے دلائل سنتے ہیں جو وہ ایک ریاست کی بنیاد پر حل کے خلاف دیتے ہیں۔

علی ابونماہ ایک ریاست کے خلاف مذہبی دلائل کو بھی مسترد کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’میں تو یہ کہوں گا کہ اسرائیلیوں کی مخالفت مذہبی بنیاد پر نہیں ہے بلکہ اصل وجہ یہ ہے کہ وہ ان فوائد سے محروم ہونا نہیں چاہتے جو انہیں ایک ایسے ملک میں جوعملی طور پر نسلی امتیاز پر قائم ہے، حکمران گروپ ہونے کی وجہ سے حاصل ہیں۔‘‘

ابِش کی دلیل یہ ہے کہ اسرائیلیوں کے لیے دو قومیتوں والی ایک ریاست میں کوئی چیز پر کشش نہیں ہے۔ اس کے جواب میں ابونماہ کہتے ہیں کہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل روز بروز الگ تھلگ ہو تا جا رہا ہے، اسے مذہبی اختلافات کا سامنا ہے اور سکیورٹی کے خطرات درپیش ہیں۔ یہ سب ایسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ایک ریاست کے متبادل حل پر غور کیا جانا چاہیئے جس سے ہر ایک کو امن، سکیورٹی اور سکون حاصل ہوگا۔دونوں فریق متفق ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں حالات کو جو ں کا توں رکھنا ممکن نہیں ہے اور تعطل کے طول پکڑنے سے دونوں طرف تشدد اور انتہا پسندی میں اضافہ ہوگا۔

ابونماہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دو قومیتوں والی ایک ریاست کا حل آسان ہوگا۔ وہ کہتے ہیں کہ بہت مشکل اور ناممکن کے درمیان بہت بڑا فرق ہے۔ امید ان دونوں کے درمیان کہیں موجود ہے ۔

XS
SM
MD
LG