رسائی کے لنکس

اسرائیلی فوج فلسطینی بچوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے: یونیسف


رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر بچوں کو پتھر پھینکنے کی پاداش میں گرفتار کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس نوعیت کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ پتھر مارنے کے واقعات میں اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔

یونیسف کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی قید میں موجود فلسطینی بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔
یونیسف کے مطابق سات سو فلسطینی بچے اس وقت اسرائیل کی قید میں ہیں۔ ان بچوں کی عمریں بارہ سے سترہ برس کے درمیان ہیں اور ان میں اکثریت لڑکوں کی ہے۔ ان بچوں کو حراست میں لیا جاتا ہے اور ان سے تفتیش کی جاتی ہے۔ اسرائیلی فوج، پولیس اور سیکورٹی ایجنٹس انہیں تفتیش کے بعد قید کر لیتے ہیں۔ ہر سال مغربی کنارے میں ایسے بہت سے بچوں کو پکڑ کر قید کر لیا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، زیادہ تر بچوں کو پتھر پھینکنے کی پاداش میں گرفتار کیا جاتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اس نوعیت کے واقعات کو سنجیدگی سے لیتا ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ پتھر مارنے کے واقعات میں اسرائیلی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔
یونیسف کی نشاندہی کے مطابق بعض اوقات ان بچوں کو ’ظلم‘، ’غیرانسانی‘ اور ’ذلت آموز‘ سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہیں اذیت ناک سزائیں دی جاتی ہیں جو بچوں کے حقوق کے کنونشن کے خلاف ہیں۔
اسرائیلی وزیر ِ خارجہ یگل پامور کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس رپورٹ کی تیاری میں یونیسف کی مدد کی تاکہ گرفتار شدہ فلسطینی بچوں کے ساتھ بہتر رویئے کو ممکن بنایا جا سکے۔
ان کے الفاظ، ’’اسرائیل اس رپورٹ کے مندرجات پر غور کرے گا اور یونیسف کے ساتھ تعاون برقرار رکھے گا۔ ہم یونیسف کے کام کی قدر کرتے ہیں۔‘‘
رپورٹ کے مطابق، "فلسطینی بچوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک ان کی گرفتاری کے وقت ہی شروع ہو جاتا ہے۔ ان بچوں کو عموما رات کے وقت بندوق بردار فوجی ان کے گھروں سے اٹھاتے ہیں۔ ان بچوں کو تفتیش کے دوران جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اس دوران ان پر دباؤ ڈالا جاتا ہے اور انہیں وکیل یا خاندان تک رسائی نہیں دی جاتی۔"
رپورٹ کے مطابق، ’’یہ سلوک اس وقت بھی جاری رہتا ہے جب یہ بچے کورٹ میں پیش ہوتے ہیں۔ بچوں کو زنجیریں ڈالی جاتی ہیں اور ان کی ضمانت منظور نہیں کی جاتی۔ ان بچوں کو فلسطینی علاقے سے باہر اسرائیلی علاقے میں قید رکھا جاتا ہے۔‘‘

یونیسف کی یہ رپورٹ 2009 کے بعد سے اب تک چار سو کیسز کی قانونی دستاویزات کی روشنی میں مرتب کی گئی۔ یہ قانونی دستاویزات سرکاری اور غیر سرکاری تنظیموں سے حاصل کی گئیں۔ جبکہ اس رپورٹ کے لیے فلسطینی بچوں، اسرائیلی اور فلسطینی عہدیداروں سے انٹرویوز بھی کیے گئے۔
XS
SM
MD
LG