رسائی کے لنکس

اسرائیل: 26 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا اعلان


بیس سال سے اسرائیل میں قید ایک فلسطینی کی والدہ ان کی متوقع رہائی کی خبر پر اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے ہوئے ہیں

بیس سال سے اسرائیل میں قید ایک فلسطینی کی والدہ ان کی متوقع رہائی کی خبر پر اپنے بیٹے کی تصویر اٹھائے ہوئے ہیں

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری کی سفارتی کوششوں کےنتیجے میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اسرائیل مرحلہ وار کل 104 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

اسرائیل نے فلسطینی حکام کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کے آغاز سے قبل 26 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مذکورہ قیدیوں کی رہائی امریکی کوششوں سے ہونےو الے اتفاقِ رائے کے تحت عمل میں آئے گی جس کا مقصد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان تین سال سے تعطل کا شکار براہِ راست مذاکرات کی بحالی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے۔

امریکہ کے وزیرِ خارجہ جان کیری کے مسلسل دوروں اور سفارتی کوششوں کےنتیجے میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اسرائیل مرحلہ وار کل 104 فلسطینی قیدیوں کو رہا کرے گا۔

اسرائیلی حکومت نے پہلے مرحلے میں 26 قیدیوں کی رہائی کی منظوری اتوار کی شب دی۔ رہا کیے جانے والے قیدی قتل کے مختلف الزامات کے تحت 1985ء سے 1994ء کے عرصے کے دوران میں قید کیے گئے تھے۔

اسرائیل کے محکمہ جیل نے معاہدے کے تحت رہا کیے جانے والے 26 قیدیوں کے ناموں کی فہرست عوام کے لیے جاری کردی ہے۔ اس فہرست میں ان اسرائیلی شہریوں کے نام بھی موجود ہیں جن کے قتل کے الزام میں ان افرادکو قید کی سزائیں سنائی گئی تھیں۔

قیدیوں کی فہرست کے اجرا کا مقصد ان کی رہائی کے مخالفین کو قانونی چارہ جوئی کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان فلسطینیوں کی رہائی کے مخالف اسرائیلی شہریوں کو حکومتی فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے لیے 48 گھنٹے دیے گئے ہیں لیکن امکان ہے کہ ماضی کی روایات کے مطابق اسرائیلی ہائی کورٹ اس معاملے میں مداخلت نہیں کرے گی۔

اسرائیلی حکام کے مطابق رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں میں سے 14 کو غزہ جب کہ 12 کو مغربی کنارے روانہ کیا جائے گا۔ رہائی پانے والوں میں سے بیشتر کا تعلق فلسطینی صدر محمود عباس کی جماعت 'الفتح' اور اس کی اتحادی تنظیموں سے ہے اور ان میں سے کم از کم آٹھ کی سزائیں پوری ہونے میں چھ ماہ سے تین سال تک کا وقت باقی ہے۔

اسرائیل اس سے قبل ماضی میں بھی کئی بار فلسطینی قیدیوں کو ان کی سزاؤں کی مدت پوری ہونے سے قبل رہا کرچکا ہے۔ لیکن زیادہ تر اس طرح کی رہائی فلسطینی مزاحمت کاروں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے اسرائیلی فوجیوں کی رہائی یا ان کی باقیات کے بدلے میں عمل میں آتی رہی ہے۔

اسرائیل کے خیر سگالی پر مبنی اس اقدام کے باوجود فلسطینی حکام نے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت کی جانب سے فلسطینی علاقوں میں نئی یہودی بستیوں کے تعمیر کے اعلان نے مجوزہ مذاکرات کے انعقاد پر سوالیہ نشان لگادیا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل کے وزیرِ تعمیرات نے اتوار کو ٹھیکیداروں کو یروشلم کے اس متنازع علاقے میں 1200 نئے گھر تعمیر کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا جس پر فلسطینی اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔

نئے تعمیراتی منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم میں یہودی علاقوں کے پاس 800 جبکہ مغربی کنارے میں 400 گھروں کی تعمیر کی منظوری دی گئی ہے۔

فلسطینی حکام کی جانب سے اسرائیل کے اس نئے اقدام کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب محض تین روز بعد اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن مذاکرات کے دور کا آغاز ہونا تھا، اسرائیل کا یہ اقدام اُس کی بد نیتی کا مظہر ہے۔

فلسطین کی جانب سے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کو ایک آزاد ریاست بنانے کا مطالبہ کیا جاتا رہا ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے ان علاقوں میں یہودیوں کی آباد کاری سے ایسا ہونا مشکل دکھائی دیتا ہے۔
XS
SM
MD
LG