رسائی کے لنکس

بتایا گیا ہے کہ نیتن یاہو نے سات ہفتوں تک حکومت سازی کی کوششیں جاری رکھیں، جب کہ حکومت تشکیل دینے کے لیے دستیاب وقت میں محض دو گھنٹے باقی رہ گئے تھے، جس کے بعد یہ ذمہ کسی دوسرے رکنِ پارلیمان کو دی جانے والی تھی

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے ایک نئی مخلوط حکومت تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے اور غیرمعمولی طور پر وہ چوتھی بار حکومت کے سربراہ بننے والے ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ کے نمائندے، اسکاٹ بوب نے یروشلم سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیر اعظم نیتن یاہو نے سات ہفتوں تک حکومت سازی کی کوششیں جاری رکھیں، جب کہ حکومت تشکیل دینے کے لیے دستیاب وقت میں محض دو گھنٹے باقی تھے، جس کے بعد یہ ذمہ کسی دوسرے رکنِ پارلیمان کو دی جانے والی تھی۔

نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ’کسی کو حیرت نہیں ہونی چاہئیے کہ سارے دھڑوں کے ساتھ مذاکرات میں کچھ وقت ضرور لگا، لیکن کوئی شخص اس بات پر حیران نہیں ہوا کہ سب کچھ ڈیڈلائن کے اندر اندر ہوا‘۔
اُنھوں نے کہا کہ اگلے ہفتے نئی حکومت حلف لے گی، جس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ دیگر جماعتوں کو اپنے ساتھ ملا کر اتحاد کو مضبوط بنانے کی کوششیں اب بھی جاری ہیں۔

مسٹر نیتن یاہو کو نئی حکومت بنانے کے لیے اُس وقت دعوت دی گئی جب اُن کی لکئوڈ پارٹی نے مارچ کے انتخابات میں اپنی متحارب لیبر پارٹی کے مخالف اتحاد کو شکست دی۔

لیبر رہنما، آئزک ہرزوگ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ نئی مخلوط حکومت میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے۔

پارلیمان میں 61 ارکان کے ساتھ، نئی حکومت کو صرف ایک رکن کی اکثریت حاصل ہے۔ مسٹر نتین یاہو نے اس سے قبل اپنے سابق اتحادی، وزیر خارجہ اوگڈر لبرمن کے ساتھ نئی مخلوط حکومت تشکیل دینے کی توقع کا اظہار کیا تھا۔ لیکن، اُنھوں نے اپنی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ’اسرائیل اَور ہوم‘ پارٹی کی جانب سے حکومت سازی کے مذاکرات سے باہر رکھا تھا۔

فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے ایک رہنما اور امن مذاکرات کے سابق سربراہ، نبیل شعات نے کہا ہے کہ نئی حکومت سے مشرق وسطیٰ امن عمل کو آگے بڑھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔

XS
SM
MD
LG