رسائی کے لنکس

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق اب تک کے حملوں میں 920 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

اسرائیل کے غزہ میں حماس پر حملے جاری ہیں اور ہفتہ کو ہلاکتوں کی تعداد 120 سے تجاوز کر گئی ہے۔

غزہ میں وزارت صحت کے ترجمان کے مطابق اب تک کے حملوں میں 920 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

فلسطین میں شدت پسندوں کی جانب سے راکٹ حملوں کو روکنے کے لیے اسرائیل نے پانچ روز قبل کارروائی شروع کی تھی۔ تاہم راکٹ حملوں سے اسرائیل کی جانب کسی طرح کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

حکام کے مطابق جمعہ کو پہلی مرتبہ لبنان کی جانب سے بھی اسرائیل پر راکٹ فائر کیے گئے۔

اسرائیل کے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ فوجی کارروائی روکنے سے متعلق بین الاقوامی دباؤ کے سامنے نہیں جھکیں گے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ ’’دہشت گرد‘‘ جو اسرائیل کی تباہی کے درپے ہیں اُن سے نمٹنے کے لیے کوئی بھی دباؤ اسرائیل کو نہیں روک سکتا۔

دیگر اسرائیلی رہنماؤں نے بھی وزیراعظم کی اس موقف کی حمایت کی۔

اسرائیلی عہدیداروں کےمطابق اگر وہ راکٹ حملے روکنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں اور حماس کو اس بات کا ادارک ہو جاتا ہے کہ اس کی بہت بڑی قیمت ہے تو پھر زمینی کارروائی کی کوئی ضرورت نہیں۔

جمعہ کو لبنان کی جانب سے شمالی اسرائیل میں راکٹ حملوں کے بعد اسرائیل کی جانب سے توپ خانے کی مدد سے جواب کے بعد علاقائی جھگڑے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

ادھر حماس نے فضائی کمپنیوں کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے شہر تل ابیب کے الاقوامی ہوائی اڈے کے لیے اپنی پروازیں بند کر دیں۔ ایک بیان میں بتایا گیا کہ حماس کے مسلح دھڑے نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کا جواب دے گا۔

منگل سے جاری کارروائی میں اسرائیل کے جنگی جہازوں نے ایک ہزار سے زائد حملے کیے۔ فوج کے مطابق ان حملوں کا نشانہ جنگجو گروپ حماس کے ٹھکانے تھے جن میں راکٹ داغنے کے مقامات کے علاوہ اُن کے تربیتی مراکز اور تنظیم کی سرکاری عمارتیں تھیں۔

اسرائیل نے غزہ کی سرحد کے قریب ٹینک اور توپ خانے کے یونٹ تعینات کر دیئے ہیں جب کہ بیس ہزار ’ریزرو‘ فورس کے اہلکاروں کو بھی بلا لیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG