رسائی کے لنکس

اسرائیل فلسطین امن مذاکرات کی خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے نئے خدشات

  • رابرٹ رافیل

اسرائیل فلسطین امن مذاکرات کی خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے نئے خدشات

اسرائیل فلسطین امن مذاکرات کی خفیہ دستاویزات کی اشاعت سے نئے خدشات

مظاہروں کی بڑے پیمانے پر کوریج کے بعد مصری حکومت نے ملک میں الجزیرہ ٹیلی ویژن پر پابندی لگادی ہے۔ قطر میں قائم الجزیرہ ٹی وی ان دنوں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری امن عمل کی خفیہ دستاویزات سامنے لانے کے باعث بھی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہےفلسطین پیپرز نامی ان دستاویزات میں قیام امن کے لیئےفلسطینی راہنماوں کی جانب سے اسرائیل کو مراعات دی جانے کے انکشافات کیے گئے ہیں۔ ماہرین کا کہناہے کہ اس سے خطے میں امن کی کوششوں کے سلسلے میں نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں ان دستاویزات کی وجہ سے شدید رد عمل میں دیکھنے میں آیا ہے جن میں سال 2008 اور 2009 کے دوران ہونے والے امن مذاکرات میں فلسطینی راہنماوں کی جانب سے اسرائیل کو بے جا مراعات دی گئی ہیں۔

یہ دستاویزات قطر سے نشر ہونے والے ٹیلی ویژن الجزیرہ نیٹ ورک کی جانب سے منظر عام پر لائی گئی ہیں۔

ان دستاویزات میں محمود عبا س کی راہنمائی میں ہونے مذاکرات کے بارے میں انکشافات کیے گئے ہیں کہ انھوں نے مشرقی یروشیلم کو اسرائیل کے حوالے کرنے اور لاکھوں فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے فیصلہ کرنے کا حق بھی اسرائیل کو دینے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔

عوامی طور پر فلسطینی رہنما فلسطینی پناہ گزینوں کے حوالے سے فیصلے کو ان پناہ گزینوں کا حق کہتے رہے ہیں۔

ان دستاویزات میں اسرائیل کے متعلق کہا گیا ہے کہ اسرائیل نے یہودی ریاست میں مسلمان اکثریت کے آبادی والے علاقوں کو ایک نئی فلسطینی ریاست بنانے کی متنازعہ تجویز دی تھی ۔

اس وقت کے فلسطینی راہنما صائب ارکات کا کہنا ہےکہ یہ من گھرٹ باتیں ہیں۔

جیفری ایرونسن فاؤنڈٰیشن فار مڈل ایسٹ پیس سے منسلک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں فلسطینی عہدے داروں نے کمزوری کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ فلسطینی قیادت اپنے ہی علاقے کے بارے میں بے یقینی کا شکار ہے۔

جبکہ کونسل آن فارن ریلیشنز کے رابرٹ ڈینن کہتے ہیں کہ فلسطینی قیادت نے اپنی عوام کو اس حوالے سے اعتماد میں نہیں لیا۔ ان کا کہناہے کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ فلسطینی قیادت نے اپنے لوگوں کو ان مذاکرات میں اسرائیل کو دی جانے والی چھوٹ کے حوالے سے تیار نہیں کیا۔اب یہ سب فلسطینیوں کے لیے ایک حیران کن بات بن کر سامنے آہی ہے۔

منظر عام پر لائی جانے والی دستاویزات اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ کے دور ہیں جب یہ مذاکرات ہو رہے تھے ۔ ان کے بعد 2009ءمیں بینجمن نیتن یاہو نے وزیر اعظم بننے کے مذکرات دوبارہ سے شروع کرنے پر زور دیا تھا۔ جیفری کہتے ہیں کہ جہاں تک میری معلومات ہیں، نیتن یاہو کی حکومت نے ابھی تک امریکی حکومت کی اس درخواست کو جواب نہیں دیا جس میں بنیادی معلومات پر اسرائیل کے نقطہ نظر کی وضاحت مانگی گئی ہے۔ تو ابھی ہم پہلے مرحلے پر ہی ہیں۔

پچھلے سال ستمبر میں اوباما انتظامیہ نے اسرائیل اور فلسطینی قیادت کے درمیان قیام امن کی کوششوں کے لیے براہ راست ملاقاتوں کو اہتمام کیا تھا ۔

ماہرین یہ بھی کہتے ہیں ان مذاکرات کی ناکامی کی ذمہ داری کچھ حد تک امریکہ پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ امریکہ نے اس حوالے سے زیادہ تک و دو نہیں کی۔

حال ہی میں واشنگٹن میں اردن کے وزیر خارجہ کے ساتھ ایک ملاقات میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے کہا ہے کہ امریکہ مشرق وسطی میں قیام امن کے لیے سنجیدہ ہے۔ ان کا کہناتھا کہ ایک ایسا حل جس سے اسرائیل بھی مطمئن ہو اور فلسطینی عوام کی امنگوں کے مطابق ایک الگ ریاست کا وجود بھی ممکن ہو۔

لیکن ماہرین کہتے ہیں کہ دوبارہ سے امن مذاکرات شروع کرنا مشکل ہو گا۔ رابرٹ ڈینن کا خیال ہے کہ فلسطینی صدر محمود عباس کے لیے سخت شرائط پوری کیے بنا مذاکرات شروع کرنا محال ہو گا۔

جبکہ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق یہ دستاویزات اسرائیل اور فلسطین کے تنازعہ میں 1999ءسے 2010ءکے گیارہ سالہ دور کی منظر عام پر آنے والی یہ سب سے بڑی خفیہ دستاویزات ہیں۔

XS
SM
MD
LG