رسائی کے لنکس

قیدیوں کے تبادلے کے علاقائی سلامتی پر اثرات

  • میریڈتھ بیول

سپاہی گیلاد شالت اسرائیلی وزیراعظم کے ہمراہ

سپاہی گیلاد شالت اسرائیلی وزیراعظم کے ہمراہ

مشرقِ وسطیٰ کے بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایک اسرائیلی سپاہی اور سینکڑوں فلسطینی قیدیوں کی رہائی اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی کے لیے بہت اہم ثابت ہو سکتی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں ایسے دن کا تصور محال ہے جب غزہ کی پٹی میں حماس، مغربی کنارے میں فلسطینی اتھارٹی، اور اسرائیلی بیک وقت جشن منا رہے ہوں۔ پانچ برس قبل حماس کے عسکریت پسندوں نے اسرائیلی سپاہی گیلاد شالت کو پکڑا تھا۔ منگل کے روز انھوں نے اسے رہا کر دیا۔ اسی روز اسرائیل نے سینکڑوں فلسطینیوں کو چھوڑ دیا۔ ان میں سے بہت سوں کو اسرائیلیوں پر حملوں کے الزام میں سزا ہوئی تھی، لیکن فلسطینیوں کی نظر میں وہ ہیروز ہیں۔

شالت کو خوش آمدید کہنے کے بعد، اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے انتباہ کیا کہ اگر رہا کیے ہوئے فلسطینیوں میں سے کوئی بھی دہشت گردی کی طرف واپس گیا، تو اس کی جوابدہی کی جائے گی۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسی کے منیجنگ ڈائریکٹر، مائیکل سنگھ کہتے ہیں کہ اس سمجھوتے میں، بڑی تشویش اسی پہلو کے بارے میں ہے۔جن مردوں اور عورتوں کو رہا کیا گیا ہے ان میں سے بعض خطرناک لوگ ہیں جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہےہیں۔ اس لیے اسرائیل کی سکیورٹی اور علاقے کی سکیورٹی پر پڑنے والے اثرات پریشان کن ہیں۔

قیدیوں کا تبادلہ برسوں کے بعد عمل میں آیا ہے۔ اس عرصے میں اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن کی تعمیر میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ‘‘میرے خیال میں اسرائیل کے لیے اس تبادلے کی ایک وجہ یہ تھی کہ اب انہیں فلسطینی اتھارٹی کے کمزور ہونے اور حماس کے طاقت حاصل کرنے کے بارے میں اتنی پریشانی نہیں ہے جتنی پہلے تھی کیوں کہ سچی بات یہ ہے کہ فی الحال امن کا عمل بالکل رکا ہوا ہے۔’’

اس تبادلے سے غزہ میں حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان جو مغربی کنارے پر حکومت کرتی ہے، رقابت کی فضا تبدیل ہو سکتی ہے۔

تجزیہ کار کہتے ہیں کہ صدر محمود عباس کو جو برسوں سے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی ناکام کوشش کرتے رہے ہیں، سیاسی طور پر نقصان پہنچ سکتا ہے ، جب کہ حماس کی مقبولیت میں ، جس نے مصر کی مدد سے قیدیوں کے تبادلے کے مذاکرات کیے، اضافہ ہو سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کار جاناتھن سپیئر کہتے ہیں کہ ‘‘حماس کو اس وقت کسی نہ کسی طرح اپنی سیاسی کارکردگی دکھانے کی سخت ضرورت تھی کیوں کہ عرب موسم ِ بہار کی وجہ سے حماس خود کو الگ تھلگ محسوس کر رہی تھی جیسے اسے نظر انداز کیا جا رہا ہو۔ اس کے علاوہ، اقوام ِ متحدہ میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی کوششوں کی وجہ سے فلسطینی اتھارٹی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا تھا۔’’

اسرائیل کے سکیورٹی تجزیہ کار ڈینیل شیفتان کہتے ہیں کہ عرب دنیا میں جو تیز رفتار تبدیلیاں آئی ہیں، ان کی وجہ سے بھی یہودی مملکت کے لیے نئے چیلنج پیدا ہو گئے ہیں۔ ان کے مطابق ‘‘اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب آپ ایران، ترکی، مصر اور امریکہ پر نظر ڈالتے ہیں، تو ہمیں ایسی تبدیلیاں نظر آتی ہیں جن کی وجہ سے اسرائیل کے لیے ماحول کہیں زیادہ خطرناک اور غیر مستحکم ہو گیا ہے۔’’

جس سمجھوتے کے تحت شالت کو رہا کیا گیا ہے، اس کے تحت اگلے دو مہینوں میں اسرائیل مزید 550 فلسطینیوں کو رہا کرے گا۔

XS
SM
MD
LG