رسائی کے لنکس

مذہبی مقامات پر حملے کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی، اسرائیل

  • اسکاٹ باب

اسرائیلی وزیراعظم

اسرائیلی وزیراعظم

اسرائیل نے کہا کہ جو لوگ مذہبی مقامات یا فوجی تنصیبات پر حملے کریں گے، حکومت ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ یہ انتباہ دائیں بازو کے یہودیوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے تشدد کی روشنی میں کیا گیا ہے ۔ یہ لوگ مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر منظور شدہ بستیوں کو ہٹائے جانے پر ناراض ہیں۔

دائیں بازو کے انتہا پسند یہودیوں نے حال ہی میں وسطی یروشلم میں بارھویں صدی کی اوکاشا مسجد کو آگ لگا دی اور اس کی دیواروں پر مسلمانوں اور عربوں کے خلاف نعرے لکھ دیے ۔ انھوں نے مسجد پر پرائس ٹیگ کے الفاظ بھی لکھ دیے ۔ یہ گویا اظہار تھا اسرائیلیوں کی ناراضگی کا ، کیوں کہ اسرائیلی عدالتوں نے مغربی کنارے میں یہودیوں کی چوکیوں کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا اور حکومت نے ان چوکیوں کو منہدم کر دیا تھا۔

مسلمانوں کے مقدس مقامات کے ترجمان، محمود ابو عطا کہتے ہیں کہ اس قسم کے حملے بڑھتے جا رہے ہیں۔’’ایسا لگتا ہے کہ ایک منظم یہودی گروپ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مسجدوں اور دوسرے مقامات کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے مقدس مقامات شامل ہیں۔‘‘

حال ہی میں نصف درجن مسجدوں پر حملے کیے گئے ہیں ۔ کاروں میں سفر کرنے والے عربوں پر، اور اس اسرائیلی گروپ کے سربراہ پر بھی جو مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر پر نظر رکھتا ہے ، حملے کیے گئے ہیں۔ بعض صورتوں میں، فلسطینی مسلمانوں نے جوابی کارروائی کی ہے ۔ اسرائیلی کالم نگار ڈینی روبنسٹیئن کہتے ہیں’’یہ نظریاتی معاملہ ہے ۔ ان کے نقطۂ نظر سے بات بڑی سادہ ہے ۔ ہم یہاں ایک عظیم عرب سمندر میں ایک چھوٹے سے جزیرے کے مانند ہیں۔ ان کی نظر میں، عرب قوم خلیجِ فارس سے بحرِ اوقیانوس تک پھیلی ہوئی ہے ۔‘‘

فلسطینی تجزیہ کار مہدی عبدالہادی کہتے ہیں کہ جب تک اسرائیلی حکومت بستیوں کی توسیع کی پالیسی پر عمل کرتی رہے گی، اس کے لیے تشدد کو روکنا مشکل ہو گا ۔’’ جب آپ ان لوگوں کو دوسرے لوگوں کی زمینوں اور گھروں پر قبضہ کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور اس خلاف ِ قانون حرکت پر کوئی انہیں نہیں روکتا، اور وہ یہ دیکھتے ہیں کہ فوج اور اس کے جنرل ان کی حمایت کر رہے ہیں، تو پھر یہودی بنیاد پرستوں اور دہشت گرد گروپوں کا پھیلاؤ نا گزیر ہو جاتا ہے۔‘‘

لیکن حملہ آور یہودی اب ان اسرائیلی سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنا رہےہیں جو غیر منظور شدہ چوکیوں کو گرانے کے عمل کی نگرانی کرتی ہیں۔ حال ہی میں وہ اردن کے قریب غیر آباد علاقے میں گھس گئے اور ایک ویران خانقاہ پر قبضہ کر لیا۔ بعض یہودیوں نے مغربی کنارے میں ایک اسرائیلی فوجی چوکی پر پتھر برسائے اور کمانڈر کو زخمی کر دیا۔

عوامی حلقوں میں احتجاج کے بعد، اسرائیل کے وزیر ِ اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ وہ انتہا پسندوں کو مذہبی جنگ کی آگ بھڑکانے کی اجازت نہیں دیں گے ۔ انھوں نے کہا’’نظریاتی جرم نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ جرم صرف جرم ہوتا ہے ۔ اس ملک میں قوانین ہیں۔ اس ملک میں حکومت ہے ۔ اس ملک میں جمہوریت ہے ۔ کسی کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں ہے ۔ کسی کو اسرائیل کی دفاعی افواج کے سپاہیوں پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ کسی کو اسرائیلی پولیس کے سپاہیوں کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں ہے ۔‘‘

انھوں نے دائیں بازو کے توڑ پھوڑ کرنے والے عناصر کے خلاف زیادہ سخت اقدامات کا اعلان کیا لیکن ان پر دہشت گردوں کا لیبل لگانے کی تجویز کو مسترد کر دیا۔

اس کے بعد سے اب تک، کچھ مشتبہ افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور چند پر فردِ جرم بھی عائد کی گئی ہے ۔ لیکن یہ گروپ بہت ہٹ دھرم ثابت ہوا ہے، اور چند لوگوں کا خیال ہے کہ یہ جلد ہی واپس لوٹ آئے گا۔

XS
SM
MD
LG