رسائی کے لنکس

فلسطینی ریاست دو سال تک خارج ازامکان: اسرائیلی وزیر خارجہ


اسرائیلی وزیر خارجہ نے اویگڈور لیبر مین

اسرائیلی وزیر خارجہ نے اویگڈور لیبر مین

اسرائیلی وزیر خارجہ نے اویگڈور لیبر مین نے کہا ہے کہ آئندہ دو برس تک ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا کوئی امکان نہیں ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ وہ روشن رخ دیکھنے والے شخص ہیں، لیکن ان کے خیال میں 2012 ءتک ایک فلسطینی ریاست کے قیام کا امکان دکھائی نہیں دے رہا۔ یہ وہ ہدف ہے جو بین الاقومی مصالحت کارروں نے ریاست کے قیام کے لیے طے کررکھاہے۔

لیبرمین نے یہ تبصرے مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی نمائندے جارج مچل کے اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کے اگلے دور کے لیے علاقے میں دوبارہ آمد سے قبل منگل کے روز کیے۔

وزیر خارجہ کے اس بیان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کے ایک ترجمان نے کہا کہ لیبر مین بین الاقوامی امن کوششوں کو للکار رہے ہیں۔

لیبر مین نے یہ تبصرے اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاروف کے ساتھ ملاقات کے بعد کیے۔ روس مشرق وسطیٰ میں قیام امن کی کوششوں کے سلسلے کے چاررکنی گروپ کا ایک رکن ہے۔ اس گروپ کے دوسرے ارکان میں امریکہ، یورپی یونین اور اقوام متحدہ شامل ہیں۔

فلسطینی ان علاقوں میں ایک فلسطینی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس پر اسرائیل نے 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کرلیا تھا۔ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بن یامن نتن یاہو، سخت شرائط اور مشرقی یروشلم پر فلسطینیو ں کے کنٹرول کے بغیر، ایک فلسطینی ریاست کا تصور قبول کرچکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG