رسائی کے لنکس

اسرائیل، فلسطین مذاکرات میں تعطل 'ناقابلِ قبول': کلنٹن


اسرائیل، فلسطین مذاکرات میں تعطل 'ناقابلِ قبول': کلنٹن

اسرائیل، فلسطین مذاکرات میں تعطل 'ناقابلِ قبول': کلنٹن

امریکی سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن نے اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان براہِ راست امن مذاکرات میں جاری تعطل کو ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

پیر کے روز واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سیکریٹری کلنٹن کا کہنا تھا کہ اوباما انتظامیہ تمام حل طلب مسائل کے حل کی غرض سے مذاکرات کی بحالی کیلیے فریقین سے رابطے میں ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال ستمبر میں امریکی کوششوں سے اسرائیل اور فلسطینی حکام کے درمیان دو سال سے معطل امن مذاکراتی عمل بحالی کے چند ہی ہفتے بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتنن یاہو کی جانب سے فلسطینی مقبوضات میں یہودی بستیوں کی تعمیر پر عائد عارضی پابندی میں توسیع نہ کرنے کے معاملے پر ایک بار پھر معطل ہوگیا تھا ۔

اسرائیلی حکومت آج کل امریکی انتظامیہ کی جانب سے حال ہی میں پیش کی گئی ان تجاویز پر غور کررہی ہے جن میں فلسطینی علاقوں میں صیہونی بستیوں کی تعمیر پر عارضی پابندی عائد کرنے کے جواب میں اسرائیل کو امریکہ کی جانب سے مراعات کی پیشکش کی گئی ہے۔

امریکی پلان میں مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کی سرگرمیوں پر تین ماہ کی عارضی پابندی عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ تاہم اس مجوزہ پابندی کا اطلاق مشرقی یروشلم کے اس حصے پر نہیں ہوگا جسے فلسطینی اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور جہاں اسرائیل نے یہودی آبادکاروں کیلیے گزشتہ ہفتے 1300 نئے اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ دائیں بازو کے یہودی سیاستدانوں اور فلسطینی قیادت کی جانب سے شدید تنقید اور مخالفت کے باوجود اسرائیلی حکومت مجوزہ پلان کی منظوری دیدے گی۔

پیر کے روز ایک امریکی خبررساں ایجنسی سے گفتگو میں اعلیٰ فلسطینی مذاکرات کار صائب اراکات کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے مشرقی یروشلم سمیت تمام مقبوضہ علاقوں میں ہر قسم کی تعمیری سرگرمی پر پابندی عائد کیے جانے تک براہ راست امن مذاکرات کی بحالی ممکن نہیں۔

میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی حکومت کی جانب سے پلان کی منظوری دیے جانے کے عوض امریکہ اسرائیل کو 20 جدید ترین لڑاکا طیاروں کی فروخت کی منظوری دینے کے ساتھ ساتھ اقوامِ متحدہ یا کسی بھی دوسرے عالمی فورم پر اسرائیل کے خلاف پیش کی جانے والی قراردادوں کا راستہ روکے گا۔

XS
SM
MD
LG