رسائی کے لنکس

مشرق وسطیٰ امن کے لیے امریکی کوششیں جاری رہنی چاہئیں

  • محمدالشناوی

مشرق وسطیٰ امن کے لیے امریکی کوششیں جاری رہنی چاہئیں

مشرق وسطیٰ امن کے لیے امریکی کوششیں جاری رہنی چاہئیں

برسوں پرانے اسرائیل فلسطین تنازع کو ختم کرنے کے لیئے جاری مذاکرات ایک بار پھر تعطل کا شکار ہو گئے ہیں۔ لیکن اسرائیل اور امریکہ میں حال ہی میں رائے عامہ کےجو سروے کیے گئے ہیں، ان کے مطابق، دونوں ملکوں میں لوگوں کی اکثریت کا خیال ہے کہ مذاکرات جاری رکھنے اور مسئلے کے پُر امن حل کے لیئے، امریکہ کو سرگرمی سے اپنی کوششیں جاری رکھنی چاہئیں۔

یہ سروے اکتوبر اور نومبر 2010 میں کیئے گئے تھے اور ان سے ظاہر ہوا ہے کہ سروے میں شامل تقریباً 1500 امریکی ، فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مصالحت کے لیئے اوباما انتظامیہ کی کوششوں کے حامی ہیں۔ اس سروے کے ڈائریکٹر ، یونیورسٹی آف میری لینڈ کے پروفیسر شبلی تلہامی کے مطابق، بیشتر امریکیوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ امن مذاکرات میں منصفانہ اور غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرے۔

تلہامی نے کہا’’یہ بڑی حیران کن بات ہے کہ امریکیوں کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ عرب اسرائیلی امن کا شمار امریکہ کے پانچ اہم ترین مفادات میں ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ امریکہ کے لوگ اسے ایک بنیادی مسئلہ سمجھتے ہیں۔ دو تہائی امریکی چاہتے ہیں کہ امریکہ سرگرمی سے سفارتکاری میں حصہ لے اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ نہ اسرائیل کی طرفداری کرے نہ فلسطینیوں کی۔‘‘

تلہامی کہتے ہیں کہ اس سروے سے ظاہر ہوتا ہےکہ امریکہ میں عام لوگ دو ریاستوں پر مبنی حل کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں جو مذاکرات کا ایک بنیادی اصو ل ہے جن کے تحت اسرائیل اور فلسطین کی ریاستیں وجود میں آئیں گی اور یہ دونوں ملک امن و آشتی سے ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں گے۔

41 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ اس تنازع کے حل کے لیئے اوباما انتظامیہ کی کوششیں بالکل مناسب تھیں، لیکن تیس فیصد نے انتظامیہ پر تنقید کی کہ اس نے پوری طرح کوشش نہیں کی۔ پروفیسر تلہامی کہتے ہیں’’میرے خیال میں عام لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے جس سے امریکہ کا قومی مفاد وابستہ ہے۔ یہ محض اسرائیلیوں یا فلسطینیوں کے ساتھ خیر سگالی کا اظہار نہیں ہے۔ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ اس کوشش میں ناکامی کے نتائج امریکہ کے لیئے نقصان دہ ہو سکتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکہ کی کوششیں کامیاب ہوں۔‘‘

پروفیسر شبلی تلہامی

پروفیسر شبلی تلہامی

تلہامی نے رائے عامہ کے دو اور سروے بھی کیئے ۔ ان میں سے ایک میں 500 یہودی اسرائیلیوں اور دوسرے میں اسرائیل کے 600 عرب شہریوں کی آرا معلوم کی گئیں۔ عرب اسرائیلیوں کی ایک غالب اکثریت یعنی 63 فیصد نے، اور 47 فیصد یہودی اسرائیلیوں نے کہا کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کبھی قائم نہیں ہو گا۔ لیکن 62 فیصد اسرائیلیوں کا خیال ہے کہ عربوں کے ساتھ جامع امن قائم کرنے کے لیئے اسرائیل کو زیادہ کوشش کرنی چاہیئے، اور نہ صرف فلسطینی ریاست کے قیام کو قبول کرنا چاہیئے بلکہ عرب ہمسایہ ممالک کے ساتھ اسرائیل کی 1967 کی سرحدوں میں ردو بدل کے لیئے بھی مذاکرات کرنے چاہئیں۔

یہودی اسرائیلیوں کی اکثریت نے کہا کہ ان کے خیال میں،اس تنازعے میں مصالحت کرانے کی اوباما انتظامیہ کی کوششوں کو، ان کی زندگیوںمیں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔ تلہامی کہتے ہیں’’ایک طرف آپ دیکھتے ہیں کہ لوگ کُھل کر امن کی حمایت کرتے ہیں، اور دوسری طرف مایوسی کے جذبات ہیں اور تیسری طرف کوئی متبادل راستے بھی نہیں ہیں۔ ان حالات میں، امریکی اور اسرائیلی عوام چاہتے ہیں کہ کوئی سامنے آئے اور اس مشکل کو حل کرے۔ میرے خیال میں، اس طرح نہ صرف اسرائیلی اور فلسطینی لیڈروں پر دباؤ پڑتا ہے بلکہ بین الاقوامی برادری، خاص طور سے امریکہ کے لیئے اس عمل میں ثالث کاکردار کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔‘‘

یونیورسٹی آف میری لینڈ کے پروفیسر اسٹیون کل کا خیال ہے کہ دوسرے حالیہ جائزوں کی طرح، ان جائزوں سے بھی امریکی عوام کی طرف سے اوباما انتظامیہ کو اہم مثبت پیغام دیا گیا ہے۔’’اگر آپ کئی مختلف ذرائع سے ملنے والی معلومات کا جائزہ لیں تو ان میں یہ پیغام ملتا ہے کہ امریکی اپنی حکومت کی حمایت کر رہے ہیں کہ وہ زیادہ مضبوطی سے کام لے اور زیادہ منصفانہ موقف اختیار کرے، بلکہ اپنی خارجہ پالیسی میں ، اسرائیل پر زیادہ دباؤ ڈالنے کے لیئے تیار رہے ۔‘‘

کل کہتے ہیں ایسے امریکیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن، امریکہ کی قومی سلامتی کا فوری اور اہم مقصد ہونا چاہیئے کیوں کہ اس تنازع کی وجہ سے عرب اور مسلمان ملکوں میں امریکہ کے خلاف جذبات مشتعل ہو رہے ہیں۔ بہت سے نوجوان امریکی سمجھتے ہیں کہ کئی عشرے پرانے اس تنازع کے حل میں اسرائیل کی سیکورٹی اور فلسطینیوں کے لیئے انصاف کو مد نظر رکھنا ضروری ہے لیکن اس کے ساتھ ہی امریکہ کو اپنی سیکورٹی کے مفادات کی حفاظت بھی کرنی چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG