رسائی کے لنکس

یہودی بستیوں کا توسیعی منصوبہ امریکہ کی” ہتک“ کے مترادف

  • ب

امریکی صدرکے خصوصی مشیر ڈیوڈ ایگزلروڈ نے کہا ہے کہ متنازع مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی توسیع کے اسرائیلی منصوبے کا اعلان مشرقع وسطیٰ میں قیام امن کے عمل کو نقصان پہنچانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

اتوار کو اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ یہ منصوبہ امریکہ کی ہتک کے متراف اور علاقے میں امن و سلامتی کے نظریات کو فروغ دینے والوں کے لیے باعث تشویش ہے۔

گزشتہ ہفتے اسرائیل نے نائب امریکی صدر جو بائیڈن کے دورے کے موقع پر مشرقی یروشلم میں1600 نئے گھر تعمیرکرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسرائیل نے اس علاقے پر 1967ء میں قبضہ کیا تھا۔

امریکہ کے نائب صدر فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ بلواسطہ مذاکرات پر آمادگی کے اعلان کے بعد علاقے کے دورے پر پہنچے تھے۔

اسرائیل کے حامی ایک با اثر امریکی گروپ ، the American Israel Public Affairs Committee نے نئی بستیوں کے قیام کے اسرائیلی منصوبے پر اوباما انتظامیہ کی کڑی تنقیدکو” انتہائی تشویش ناک معاملہ “قرار دیا ہے۔

جمعہ کووزیر اعظم بنیا من نتن یاہو کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی اپنی گفتگو میں امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن نے انھیں بتایا کہ نئی بستیوں کی تعمیر کے اعلان کے لیے اسرائیل نے جس موقع کا انتخاب کیا اُس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ وزارت داخلہ نے توسیعی منصوبے کا اعلان انھیں بتائے بغیر کیا اور اس کے لیے جس وقت کا تعین کیا گیا اُس پر انھیں افسوس ہے ۔ مسٹر نتن یاہو نے کہا کہ یہ کسی سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ نہیں لیکن انھوں نے یہ نہیں کہا کہ وہ اس منصوبے کو منسوخ کردیں گے۔

نومبر میں وزیر اعظم نتن یاہو نے مغربی کنارے میں یہودی آبادیوں کے قیام کے لیے سرکاری اجازت ناموں کے اجراء کا عمل 10 ماہ تک منجمدکرنے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس فیصلے میں مشرقی یروشلم کو شامل نہیں کیا گیا تھا کیونکہ اسرائیل اسے اپنے دارالحکومت کا حصہ سمجھتا ہے اور فلسطینی اسے مستقبل کی اپنی ریاست کا دارالخلافہ بنانا چاہتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی جارج مچل اسرائیل اور فلسطینیوں کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کے لیے اس ہفتے علاقے کا دورہ کریں گے۔ بات چیت کا یہ عمل دسمبر 2008 ء میں اُس وقت تعطل کا شکار ہو گیا جب اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑی فوجی کا آغاز کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG