رسائی کے لنکس

امریکی ثالثی میں مذاکرات کے نتائج پر شکوک وشبہات

  • لوئس رامرز

امریکی ثالثی میں مذاکرات کے نتائج پر شکوک وشبہات

امریکی ثالثی میں مذاکرات کے نتائج پر شکوک وشبہات

اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو یقین نہیں کہ امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے براہ راست مذاکرات کاکوئی نتیجہ بر آمد ہو گا یا مشرقِ وسطیٰ میں چھ عشرے پرانے اس تنازعے کو ختم کرنے کی طرف کوئی پیش رفت ہوگی۔

یروشلم کے نزدیک مغربی کنارے کے قصبے El Birehمیں مصطفی مُرار کی پینٹ کی دکان ہے۔ یہ ایک یہودی بستی کو جانے والے راستے کی اس سڑک پر واقع ہے جہاں دس سال پہلے فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان خوفناک جنگ ہوئی تھی ۔ اس لڑائی میں ان کا کاروبار تباہ ہو گیا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کا کاروبار بالکل ختم ہو چکا تھا اور صرف حالیہ دنوں میں علاقہ کھلا ہے اور کاروبار کچھ چمکا ہے ، ورنہ گذشتہ سات برسوںمیں تو مسلسل نقصان اٹھانا پڑا ۔ وہ کہتے ہیں کہ 2000 میں جو مذاکرات ہوئے ان کے لیے کوئی بھی فریق تیار نہیں تھا اور ان کی ناکامی پر فلسطینیوں نے ہتھیار اٹھائے تھے ۔

و ہ مزید کہتے ہیں کہ ان کے خیال میں، اس بار بھی کوئی فریق مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہے ’’ مذاکرات اور سمجھوتہ اگر امن کے لیے حقیقی کوشش پر مبنی ہو، تو یہ بڑی اچھی بات ہو گی۔ لیکن فلسطینیوں کو اسرائیلیوں کے ساتھ جو تجربہ ہوا ہے، اس کی روشنی میں یہ مذاکرات بے نتیجہ ثابت ہوں گے ۔‘‘

بہت سے اسرائیلیوں کا بھی یہی خیال ہے کہ مذاکرات کے لیے یہ وقت مناسب نہیں ہے ۔ مغربی یروشلم میں قدیم شہر کےجافا گیٹ کے نزدیک رہنے والے اسرائیلی شہری کہتے ہیں کہ کئی عشروں کے تصادم کے بعد،ایسی چیزیں بہت کم ہیں جن پر دونوں فریقوں کا موقف مشترک ہو اور جن کی بنیاد پر با معنی مکالمہ ہو سکے ۔

ایک اسرائیلی شہری کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں مذاکرات کامیا ب نہیں ہوں گے۔ یہ تنازع کسی ایک کوشش سے حل نہیں ہو سکتا۔ ان کے خیال میں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کا عادی ہو جانا چاہیئے ۔

یہ تنازع کئی عشروں سے جاری ہے اور یروشلم، پناہ گزینوں، سرحدوں اور مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے سوال پر، دونوں فریقوں کے درمیان اختلافات ہمیشہ کی طرح برقرار ہیں۔ اسرائیل کہتا ہے کہ وہ اپنے لیے سکیورٹی کی ضمانت، غیر مسلح فلسطینی ریاست اورغیر منقسم یروشلم چاہتا ہے جس پر صرف اس کا کنٹرول ہو۔ اسرائیل یہ بھی چاہتا ہے کہ فلسطینی اسے ایک یہودی مملکت کی حیثیت سے تسلیم کریں۔بہت سے اسرائیلی لاکھوں اسرائیلی آباد کاروں کو مغربی کنارے سے نکالنے کے مخالف ہیں۔ فلسطینی کہتے ہیں کہ یہ ایسا مطالبہ ہے جس پر وہ کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

یروشلم کی فلیسطینین اکیڈمک سوسائٹی فار دی اسٹڈی آف انٹرنیشنل افیئرز کے تجزیہ کار مہدی عبد الہادی کہتے ہیں کہ دونوں فریق امریکی دباؤ کے تحت مذاکرات کی میز پر واپس آ رہے ہیں، اس لیے نہیں کہ دونوں کو مذاکرات کی اہمیت کا احساس ہے۔’’گذشتہ 20 برسوں میں ، میڈرڈ کے بعد سے اب تک، اسرائیلیوں کے ساتھ مذاکرات میں ہمیں کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے ۔بلکہ ہماری مزید زمین ہمارے ہاتھوں سے نکل رہی ہے، ہمارے درمیان پھوٹ پڑ گئی ہے، ہماری قیادت اور ہمارا مستقبل بحران کا شکار ہے، ہم اسرائیلی قبضے کے تحت صحیح معنوں میں نسلی علیحدگی کے نظام تلے رہ رہے ہیں۔اور اب واشنگٹن نے ہمیں دعوت دی ہے؟ نہیں، انھوں نے ہمیں مدعو نہیں کیا۔ انھوں نے ہمیں طلب کیا ہے ۔‘‘

فلسطینی لیڈروں نے انتباہ کیا ہے کہ تشدد کی راہ دوبارہ اختیار نہ کی جائے ۔ لیکن یروشلم انسٹیٹیوٹ فار اسرائیل اسٹڈیز کے Yacov Bar-Simantov کہتے ہیں کہ تشددد دوبارہ پھوٹ پڑنے کا خطرہ موجود ہے ۔’’ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو کہیں گے کہ اگر ہم سیاسی طریقے سے ، سفارتی عمل کے ذریعے کامیاب نہیں ہوئے تو ہمیں ایک بار پھر تشدد کے ذریعے کوشش کرنی چاہیئے۔کسی بھی ناکامی کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ پھر سے تشدد کی راہ اختیار کر لی جائے۔‘‘

مغربی کنارے کے دکاندار مصطفی مرار کہتے ہیں کہ دوسرے لوگوں کی طرح وہ بھی جنگ نہیں چاہتے۔وہ کہتے ہیں کہ ان کا کام ٹھپ ہو جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ اقتصادی صورت حال کا تعلق سیاست سے ہے ۔ اگر سیاسی حالات اچھے ہوں، تو معیشت کی حالت بھی اچھی ہوتی ہے ورنہ کاروبار بھی تباہ ہو جاتا ہے ۔ لیکن مغربی کنارے کے دوسرے فلسطینیوں کی طرح، وہ بھی خوفزدہ ہیں کہ اگر مذاکرات ناکام ہو گئے،تو ان کے علاقے پر قبضے کا نتیجہ خون خرابے کی شکل میں نکل سکتا ہے اور یوں وہ سب کچھ برباد ہو جائے گا جسے بنانے کے لیے انھوں نے سخت محنت کی ہے ۔

XS
SM
MD
LG