رسائی کے لنکس

امریکی ایلچیوں کی اسرائیلی اورفلسطینی راہنماؤں سے ملاقاتیں


فائل فوٹو

فائل فوٹو

ڈینس راس اور ڈیوڈ ہیلے نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجامن نتن یاہو سے ملاقات کی۔ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں رملہ بھی گئے جہاں اُنھوں نے فلسطینی اتھارٹی کے وزیرِ اعظم سلام فیاض سے بات چیت کی

گذشتہ برس تعطل کا شکار ہونے والی اسرائیل فلسطینی امن بات چیت کو دوبارہ شروع کرنے کے لیےسینئر امریکی سفارتکار اِس وقت مشرقِ وسطیٰ میں ہیں۔

ڈینس راس اور ڈیوڈ ہیلے نے بدھ کے روز اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجامن نتن یاہو سے ملاقات کی۔ وہ مقبوضہ مغربی کنارے میں رملہ بھی گئے جہاں اُنھوں نے فلسطین اتھارٹی کے وزیرِ اعظم سلام فیاض سے بات چیت کی۔
ہیلے، جمعرات کو عمان میں فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اِس ہفتے کے اواخر میں وہ اردن اور مصری عہدے داروں سے بھی بات چیت کریں گے۔

گذشتہ ماہ مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی جارج مچیل کی طرف سے استعفےکے بعد، اِن ایلچیوں نے پہلی بار خطے کا دورہ کیا ہے۔ مچیل نے دونوں طرفین کے مابین نئے سرے سے مذاکرات شروع کرنے کے کام میں ناکامی کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔

ایک اسرائیلی عہدے دار کا کہنا ہے کہ یہ ایلچی ایک حکمت عملی تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جِس سے فلسطینیوں کو ترغیب دی جائے کہ وہ ستمبر میں اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کی یکطرفہ منظوری کی کوشش کو ترک کردیں ۔

فلسطینیوں نے، جنھیں توقع ہے کہ وہ مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی میں اپنی ریاست کو قائم کریں گے، اسرائلیوں کی طرف سے بات چیت میں تعطل پر مایوسی کے اظہار کے طور پر یہ حکمتِ عملی اختیار کی تھی۔ امریکہ اور اسرائیل کا کہنا

ہے ایسا طریقہ اپنانے سے محض تناؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

یہ دونوں عہدے دار امریکی صدر براک اوباما کے’ اِنی شئیٹو‘ کوآگے بڑھا رہے ہیں جِس میں مذاکرات کے دوبارہ اجرا کی بنیاد1967ء سے قبل کی سرحد اور رضامندی کے ساتھ زمین کےتبادلے کو قرار دیا گیا ہے۔

اسرائیل نے 1967ء کی سر حد کو بنیاد بنا کر بات چیت کو آگے بڑھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دو ریاستی حل کی حدود کو مذاکرات کے آغاز سے قبل متعین نہیں کیا جانا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG