رسائی کے لنکس

اسرائیل ،فلسطین امن کے لیے اتحاد کی تشکیل

  • راب سیواک

اسرائیل ،فلسطین امن کے لیے اتحاد کی تشکیل

اسرائیل ،فلسطین امن کے لیے اتحاد کی تشکیل

امریکہ کی کئی یہودی تنظیموں نے عیسائی اور مسلمان تنظیموں کے ساتھ مِل کر فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان تنازعے کو پُر امن طریقے سے حل کرنے کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے ۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان براہِ راست امن مذاکرات کے امکانات روشن ہو رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی امریکہ کے کئی یہودی، عیسائی اور مسلمان مذہبی گروپوں اور امن کے لیے سرگرم کارکنوں نے امن کے عمل میں پیش رفت کے لیے ایک نیا اتحاد تشکیل دیا ہے ۔ اس اتحاد کودی کمیونٹی آف ییس The Community of Yes یعنی ہاں کہنے والی کمیونٹی کا نام دیا گیا ہے ۔ اس اتحاد میں امریکہ میں اسرائیل اور امن کے حامی امریکیوں کی سیاسی تنظیم جے اسٹریٹ کے علاوہ چرچز فارمڈل ایسٹ پیس، دی اسلامک سوسائٹی آف نارتھ امریکہ، دی مسلم پبلک افیئرز کونسل اور کئی دوسرے گروپ شامل ہیں۔

جے اسٹریٹ کے نائب صدر برائے پالیسی اور اسٹریٹجی ہادار سسکنڈ اس اتحاد کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہتےہیں’’ہمارا مقصد ان بہت سی مختلف آوازوں کا توڑ کرنا ہے جو آپ کبھی کانگریس میں کبھی ریڈیو اور ٹیلیویژن پر، اور کبھی یہودی کمیونٹی میں سنتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنا بہت سے وقت یہ کہنے میں صرف کرتے ہیں کہ امن حاصل کرنا ممکن نہیں ہے یا امن کے لیے اسرائیل کا کوئی شراکت دار نہیں ہے یا جو اپنی ساری توانائی امن کی راہ میں دشواریوں کو بیان کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ امریکی قیادت کے لیے زبردست حمایت موجود ہے اور لوگ یہ چاہتے ہیں کہ امریکہ اس تنازعے کو ختم کرنے میں مدد دے۔‘‘

سسکنڈ کہتے ہیں کہ رائے عامہ کے حالیہ جائزوں سے ظاہر ہوا ہے کہ امریکہ کی یہودی کمیونٹی میں فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے پرُ امن حل کے لیے ٹھوس حمایت موجود ہے ۔ اور 82فیصد امریکی یہودی اس بات کے حامی ہیں کہ امریکہ ، دو ریاستوں کے حل کے حصول میں، اسرائیل اور فلسطینیوں کی سرگرمی سے مدد کرے ۔

ان کا کہنا ہےکہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے دی کمیونٹی آف ییس ملک گیر سطح پر حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے ۔ ’’ہر ہفتے نئے اقدامات کیے جائیں گے، جب وقت آئے گا تو قانون سازی پر توجہ دی جائے گی۔ لوگوں کو ہاں کہنے والی کمیونٹی میں شامل کرنے کے لیے بہت سے طریقے استعمال کیے جائیں گے۔ امریکی قیادت تک ہاں کا پیغام پہنچانے اور صدر اوباما کی طرف سے اس تنازعے کو ختم کرنے کی کوشش کو ہاں کہنے پر توجہ دی جائے گی ۔‘‘

ترقی پسند یہودی گروپوں کے کام میں جو نئی بات ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ میں دو بڑی اسلامی تنظیمیں ان کی ہمنوا ہو گئی ہیں۔ ان میں ایک تنظیم مسلم پبلک افیئرز کونسل ہے۔حارث تارین واشنگٹن میں اس تنظیم کے ڈائریکٹر ہیں۔ وہ کہتے ہیں’’ہم یہ کہنے کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ جو لوگ امن کو لبیک کہنا چاہتے ہیں، ان کے لیے یہ عمل کا وقت ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ مسلمان امریکی اس پراجیکٹ میں اپنا رول ادا کریں گے ۔ ہم جانتے ہیں کہ عام امریکی امن چاہتے ہیں ۔ ہم ہر مکتب فکر کے امریکیوں کی رائے اس سلسلے میں ہموار کریں گے اور مسلمان امریکی اس مجموعی کوشش کا حصہ ہوں گے۔‘‘

تارین کہتے ہیں کہ مسلمان امریکیوں کی اکثریت کے لیے فلسطینی مسئلہ انتہائی اہم ہے اور یہی وجہ ہے کہ مسلمان کمیونٹی امن کے اس نئے اتحاد میں شامل ہونے کو تیار تھی ۔ دی کمیونٹی آف ییس کو منظم کرنے والے لوگ چاہتے ہیں کہ امریکہ ، اسرائیل اور فلسطینیوں کو نزدیک لانے میں مرکزی کردار ادا کرتا رہے۔ لیکن مشرق ِ وسطیٰ کے بعد دوسرے ماہرین کا خیال ہے کہ براہ راست مذاکرات صرف اسی صورت میں ہو سکتے ہیں جب دونوں فریق اس کے لیے تیار ہوں۔ امریکہ کو چاہیئے کہ وہ دونوں فریقوں کو یہ اطمینان دلاتا رہے کہ امن ان کے بہترین مفاد میں ہے ۔

کمیونٹی آف ییس کے اراکین

کمیونٹی آف ییس کے اراکین

رابرٹ ساٹلوف اسرائیل کے حامی تھنک ٹینک، واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ فار نیئر ایسٹ پالیسیز کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ہیں ۔ وہ کہتے ہیں’’بیشتر امریکی یہ بات سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی اگلے مورچوں پر کھڑے ہیں۔ وہ اپنا فیصلہ خود کریں گے۔ امریکی حکومت کے لیے موزوں رول یہ ہے کہ وہ امن قائم کرنے والوں کے لیے خطرات کم کرے تا کہ وہ امن کے حصول میں آخری جست لگا سکیں۔‘‘

کمیونٹی آف ییس کے اتحاد نے اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن کے حصول میں اپنی دلچسپی کا اظہار اس طرح بھی کیا ہے کہ اس نے ٹیلیویژن پر ایک اشتہار جاری کیا ہے جس میں اوباما انتظامیہ، امریکی کانگریس کے ارکان، اور امریکی عوام کو مخاطب کیا گیا ہے ۔

XS
SM
MD
LG