رسائی کے لنکس

مذاکرات: اسرائیل نےتحفظات کے ساتھ چار فریقی گروپ کے منصوبے کوتسلیم کرلیا


مذاکرات: اسرائیل نےتحفظات کے ساتھ چار فریقی گروپ کے منصوبے کوتسلیم کرلیا

مذاکرات: اسرائیل نےتحفظات کے ساتھ چار فریقی گروپ کے منصوبے کوتسلیم کرلیا

اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بارے میں بین الاقوامی منصوبے کو ’کچھ تحفظات‘ کے ساتھ تسلیم کرتا ہے، جِس اعلان پر فلسطینیوں کی طرف سے نکتہ چینی سامنے آئی ہے۔

ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نتن یاہو نے کہاہے کہ اسرائیل چار فریقی گروپ کی طرف سے کیے گئے اِس مطالبے کا خیرمقدم کرتا ہے جس میں طرفین سے کہا گیا ہے کہ وہ بغیرپیشگی شرائط کے براہِ راست مذاکرات کریں۔ مسٹر نتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ منصوبے کے بارے میں اسرائیل کو’ کچھ تشویش‘ ہے،جسے وہ کسی ’مناسب وقت پر‘ اُٹھائے گا۔ اُنھوں نےاِس بات کی وضاحت نہیں کی۔

مشرق وسطیٰ پر ثالثوں کے چار فریقی گروپ میں امریکہ، یورپی یونین ، روس اور اقوام متحدہ شامل ہیں، جنھوں نے گذشتہ ما ہ ایک اعلامیے کے ذریعے اسرائیل اور فلسطینیوں پر ’بغیر کسی تاخیر یا شرائط کے‘ مذاکرات جاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اُن کا کہنا تھا کہ 2012ءکے اواخر تک دونوں فریق کسی امن سمجھوتے پر آمادہ ہو جائیں۔

اعلیٰ فلسطینی عہدے دار، صائب عرکات نے مسٹر نتن یاہو پر الزام لگایا کہ اُنھوں نے منصوبے کو تسلیم کرنے کا اعلان کرکے بین الاقوامی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کو شش کی ہے۔ عرکات کا کہنا تھا کہ چار فریقی گروپ کے بیان میں مذاکرات سے قبل اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ کئی ایک باتوں کو تسلیم کرے۔

عرکات نے اُن پرانے مطالبات کو دہرایا کہ اسرائیل مقبوضہ زمین پر بستیوں کی تعمیر کے کام کو روکے جسے فلسطینی اپنی ریاست کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں اور 1967ء کی سرحدوں کو فلسطینی ریاست کی سرحدیں تسلیم کرے۔ اسرائیل نے اِن مطالبوں کو امن مذاکرات کے شرائط کے طور پر ماننے سے انکار کیا ہے۔

چار فریقی گروپ نے فلسطینی مطالبوں کی واضح طور پر توثیق نہیں کی۔ تاہم، اُس نے 2003ء کے امن منصوبے کے روڈ میپ ، اور نئی امن بات چیت کے دائرہٴ کار کے بارے میں امریکی صدر براک اوباما کی مئی 2011ء کی تقریر کی حمایت یا اعادہ کیا۔

روڈ میپ میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ بستیوں کی تعمیر کو منجمد کرنے اور فلسطینیوں سے اسرائیلیوں کے خلاف پُر تشدد کارروائیاں بند کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ مسٹر اوباما کی تقریر نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ 1967ء کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کی سرحدوں اور رضامندی کے ساتھ زمین کے تبادلے کے معاملے پر بات چیت کریں۔

XS
SM
MD
LG