رسائی کے لنکس

حماس اور فتح کا معاہدہ امن اوراسرائیلی وزیرِاعظم کی مخالفت


حماس اور فتح کا معاہدہ امن اوراسرائیلی وزیرِاعظم کی مخالفت

حماس اور فتح کا معاہدہ امن اوراسرائیلی وزیرِاعظم کی مخالفت

اسرائیلی وزیرِاعظم بینجمن نتن یاہو فرانس اور برطانیہ کا دورہ مکمل کرکے جمعہ کے روز وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے دورے کا مقصد دونوں ممالک کی قیادت سے فلسطینی دھڑوں کے مابین قومی حکومت کے قیام کےلیے حالیہ اتفاقِ رائے کے بعد کی صورتِ حال پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔

جمعرات کے روز نتن یاہونے پیرس میں فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کے بعد اسرائیلی وزیرِاعظم نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ صدر سرکوزی نے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ امن سے رہنے کے خواہشمندوں کو تشدد کی راہ چھوڑ کر امن کے ساتھ اپنی وابستگی کا اظہار کرنا ہوگا۔

نتن یاہو نے بدھ کے روز برطانوی ہم منصب ڈیوڈ کیمرون سے ملاقات کی تھی جس میں برطانوی راہنما نے بھی اسی طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

اسرائیلی وزیرِاعظم کے حالیہ دورہ یورپ کا مقصد فلسطینی گروپوں الفتح اور حماس کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کے خلاف اسرائیل کے دوست ممالک کی حمایت حاصل کرنا تھا۔

الفتح اور حماس کے راہنماؤں نے مصری دارالحکومت قاہرہ میں بدھ کے روز امن معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے بعد دونوں گروپوں کے درمیان گزشتہ چار برسوں سے جاری محاذ آرائی کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ معاہدے کی رو سے فلسطین میں ایک قومی حکومت قائم کی جائے گی جس کے تحت ایک برس کے اندر اندر صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہوگا۔

اسرائیل امن معاہدے کی سخت مخالفت کررہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو نے رواں ہفتے اپنے ایک بیان میں فلسطینی گروپوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’امن کےلیے ایک دھچکا‘ قرار دیا تھا۔

واضح رہے کہ اسرائیل، امریکہ اور یورپی یونین فلسطینی تنظیم حماس کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دیتے ہیں۔

اسرائیلی وزیرِاعظم رواں ماہ امریکہ کا بھی دورہ کرینگے جہاں وہ صدر براک اوباما کے ساتھ فلسطینی گروپوں کے حالیہ معاہدے اور اسرائیل-فلسطین امن مذاکرات پر تبادلہ خیال کرینگے۔

XS
SM
MD
LG