رسائی کے لنکس

غزہ میں طویل المدت جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق


فلسطینی بچے

فلسطینی بچے

امن سمجھوتے کے ایک حصے کے طور پر، فریقین نے اِس بات سے اتفاق کیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر متنازعہ فی معاملات پر مذاکرات کا آغاز کریں گے

بحیرہٴروم کی محصور آبادی کے علاقے میں 50 روز سے جاری لڑائی، جہاں حماس کے شدت پسند آباد ہیں، اسرائیل اور فلسطینیوں نے غزہ کی جنگ بندی سے اتفاق کیا ہے، جس کی تفاصیل باریکی سے طے نہیں ہوپائیں۔

اِس معاہدے پر منگل کی شام سے عمل درآمد شروع ہوا، جِس کی ثالثی مصر نے کی ہے، جس کے بارے میں اسرائیل نے کہا ہے کہ اس سے غزہ کے محاصرے میں نرمی پیدا ہوگی، تاکہ اِس جنگ زدہ علاقے میں انسانی بنیادوں پر امدادی کام کی بحالی اور تعمیراتی سامان کی دستیابی میں مدد مل سکے۔

امن سمجھوتے کے ایک حصے کے طور پر، لڑنے والے فریقین نے اِس بات سے اتفاق کیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندر متنازعہ فی معاملات پر مذاکرات کا آغاز کریں گے، جس میں اسرائیل کا وہ مطالبہ بھی شامل ہے جس میں حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے کہا گیا ہے، اور فلسطینی مطالبہ کہ محاصرے کو وسیع بنیاد پر ختم کیا جائے اور بندرگاہ اور ہوائی اڈے کو بحال کیا جائے۔

نئی جنگ بندی کے باعث، آٹھ جولائی کو شروع ہونے والی لڑائی رُک سکتی ہے۔

اس میں 2100سے زائد فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر شہری ہیں، جب کہ اسرائیل کی 68 ہلاکتیں واقع ہوئی ہیں، جن میں سے چار کے علاوہ باقی تمام فوجی ہیں۔


گذشتہ دو ہفتوں کے دوران جنگ بندی کے کئی معاہدے ہوئے، جو پائیدار ثابت نہ ہو سکے، جو غزہ کی جنگ میں عارضی وقفوں کا سبب بنے۔

تاہم، جنگ بندی کے معاہدے ختم ہوتے ہی حماس فوری طور پر سرحد پار راکیٹ حملوں کا سلسلہ شروع کر دیتا تھا، جب کہ اسرائیل اِس کا جواب مہلک فضائی حملوں سے دیا کرتا تھا۔

منگل کو یہ معاہدہ طے پانےسے کچھ ہی گھنٹے قبل تک، تشدد کی کارروائیاں جاری رہیں۔ نئے فضائی حملوں کے دوران، اسرائیل نے غزہ کی اونچی تین دو رہائشی عمارات پر بمباری کرکے اُنھیں مسمار کردیا۔

اِن حملوں میں ایک 13 منزلہ رہائشی اور دفتری ٹاور کے علاوہ ایک 16 منزلہ رہائشی عمارت تباہ ہوئی۔

بمباری سے قبل، انتباہ کے طور پر، غیر آتشیں میزائل مارے گئے جس سے اُن کے مکین تیزی سے باہر نکل گئے۔ تاہم، اِن حملوں کے نتیجے میں 20 افراد زخمی ہوئے۔

صحت عامہ پر مامور فلسطینی اہل کاروں نے بتایا ہے کہ دیگر اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں غزہ کے چھ مکین ہلاک ہوئے۔

گذشتہ چند روز کے دوران، اسرائیلی فضائی حملوں کا ہدف حماس کے رہنما اور دیگر شدت پسند تھے۔ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں پانچ ٹاور اور شاپنگ سینٹر تباہ ہوئے، جس نئے حربے کا ممکنہ مقصد سرحد پار راکیٹ داغنے کا خاتمہ لانے کے لیے حماس پر دباؤ بڑھانا تھا۔

منگل کو کیے گئے حملوں کے ایک عینی شاہد، ابو کریم نے بتایا ہے کہ منہدم کی جانے والی عمارت میں حماس کا کوئی شدت پسند موجود نہیں تھا۔

XS
SM
MD
LG