رسائی کے لنکس

امریکی محکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان، میری ہارف نے اِسی ہفتے کے آغاز پر کہا تھا کہ اِس دورے میں، مجوزہ ڈھانچے پر سمجھوتا متوقع نہیں ہے۔ تاہم، ’دوریاں‘، جو دونوں فریق کے درمیان ’اب بھی موجود ہیں‘، اُن میں کمی آنے کی امید کی جاسکتی ہے

امریکی وزیر خارجہ جان کیری مذاکرات کے لیے اسرائیل پہنچے ہیں، جِن کے بارے میں محکمہٴخارجہ کا کہنا ہے کہ اِس میں اسرائیل فلسطینی امن سمجھوتے کی راہ میں حائل اہم امور پر گفتگو کا مجوزہ ڈھانچہ شامل ہے۔

یہ تازہ ترین دورہ ایسے وقت ہو رہا ہے جب مشرق وسطیٰ کے امن عمل کو نئی جہت دینے کے سلسلے میں اُن کی کوششوں کو سخت مزاحمت درپیش ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ یہودی بستیوں کی تعمیر اور مغربی کنارے کے فلسطینی حصوں میں سلامتی کے انتظامات کے سلسلے میں، جو اسرائیلی مسلح افواج کے کنٹرول میں ہیں، سامنے آنے والی تجاویز کے بعد، حال ہی میں فریقین کی پوزیشنیں سخت ہوگئی ہیں۔

اسرائیلی وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے کیری کی آمد کے بعد بتایا ہے کہ، بقول اُن کے، اسرائیل میں اس بات پر شبہ بڑھ رہا ہے کہ فلسطینی امن کے لیے پُرعزم ہیں۔

اِس پر، فلسطینی اہل کاروں کی طرف سے کوئی فوری بیان سامنے نہیں آیا۔

کئی روزہ دورے کے دوران، کیری رملہ بھی جائیں گے جہاں وہ فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے لیے امریکہ کا عزم ’ناقابلِ تسخیر‘ ہے، جب کہ، امن سجھوتا ’ناممکن مشن‘ نہیں۔

امریکی محکمہٴ خارجہ کی خاتون ترجمان، میری ہارف نے اِسی ہفتے کے آغاز پر کہا تھا کہ اِس دورے کے دوران، مجوزہ ڈھانچے پر سمجھوتا متوقع نہیں ہے۔ تاہم، ’دوریاں‘، جو دونوں فریق کے درمیان ’اب بھی موجود ہیں‘، اُن میں کمی آنے کی امید کی جاسکتی ہے۔

کسی امن معاہدے میں حل طلب اہم معاملات سرحدیں، سلامتی کے سوالات، یروشلم کی قسمت کا فیصلہ اور فلسطینی پناہ گزینوں کے واپسی کا حق شامل ہیں۔

اسرائیل اور فلسطینیوں کے مابین تین سالہ تعطل کے بعد جولائی میں امن مذاکرات بحال ہوئے، اور دونوں نے اِس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ اپریل تک بات چیت کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔

کیری نے اپنی خارجہ پالیسی کے ہدف میں مشرق وسطیٰ امن معاہدے کو اولین ترجیح پر رکھا ہوا ہے اور گذشتہ برس اُنھوں نے خطے کی طرف تواتر سے دورے جاری رکھے ہیں۔
XS
SM
MD
LG