رسائی کے لنکس

فلسطینی قیدیوں کی 63 روزہ بھوک ہڑتال ختم


اسرائیلی فوج

اسرائیلی فوج

اسرائیل کو یہ ڈر لاحق تھا کہ کسی قیدی کے فوت ہوجانے کی صورت میں، فلسطینی علاقوں میں تشدد کی لہر کو شہ ملے گی

اسرائیل سے تعلق رکھنے والے فلسطینی قیدیوں کےایک گروپ نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کردی ہے۔ رابرٹ برجر نے یروشلم سے ’وائس آف امریکہ‘ کو بھیجی گئی ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے سکیورٹی سے واسطہ رکھنے والےتقریباً 80 فلسطینی قیدیوں نے اپنی 63 روزہ بھوک ہڑتال ختم کردی ہے، جس کےنتیجے میں اُن میں سے زیادہ تر کو اسپتال داخل کرایا گیا تھا۔

اُنھوں نے اسرائیل کی متنازع فی ’انتظامی حراست میں لینے کی پالیسی‘ کو واپس لینے کے مطالبے کے حق میں یہ بھوک ہڑتال 24 اپریل سے شروع کی تھی، جس پالسی کے تحت دہشت گردی کی کارروائی کے شبے میں مقدمہ دائر کیے بغیر کسی کو قید کیا جا سکتا ہے۔

فلسطینی قیدیوں کے گروپ کے سربراہ، قدورا فارس نے کہا ہے کہ اسرائلی قید خانے کے حکام سے سمجھوتا طے کیا جانا ایک صحیح سمت قدم ہے۔

فارس نے اسرائیل ریڈیو کو بتایا کہ یہ سمجھوتا کوئی بڑی کامیابی نہیں، لیکن انتظامی حراست کے معاملے میں نرمی برتنے پر مکالمہ ہو سکتا ہے۔ دریں اثنا، اُنھوں نے کہا کہ اسرائیل بھوک ہڑتالیوں کے خلاف انضباطی اقدامات ختم کرے گا، مثلاً اہل خانہ کی ملاقاتوں میں کمی لانا اور جیل کی کوٹھڑی سے ٹیلی ویژن سیٹ ہٹانا۔

فارس نے کہا کہ حراست میں لیے گئے لوگ صحتیاب ہونے تک اسپتال میں رہیں گے اور پھر وہ قیدخانے کی طرف واپس جائیں گے اور اپنی آزادی کی کوششیں جاری رکھیں گے۔

اسرائیلی اہل کاروں نے بھی اِس سمجھوتے کا خیرمقدم کیا ہے۔

رکن پارلیمان، ڈیوڈ سور نے اسرائیل ریڈیو کو بتایا کہ وہ اس بات پر خوش ہیں کہ بھوک ہڑتال ختم ہوگئی ہے اور قیدیوں کے ساتھ سمجھوتا طے کرکے معاملات کو پُرامن طریقے سے حل کرنے کو ہمیشہ ترجیح دی جانی چاہیئے۔

اسرائیل کو یہ ڈر لاحق تھا کہ کسی قیدی کے فوت ہوجانے کی صورت میں، فلسطینی علاقوں میں تشدد کی لہر کو شہ ملے گی۔

مغربی کنارے میں اسرائیل کے کریک ڈاؤن کے باعث تناؤ کے ماحول میں شدت آچکی تھی، جس سے دو ہفتے قبل تین اسرائیلی بچے لاپتا ہوگئے تھے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ لاپتا ہونے والے مذہبی اسکول کے یہ بچے فلسطینی دہشت گرد گروپ، حماس کے ہاتھوں اغوا کیے گئے ہیں، حالانکہ حماس نہ تو اِن کی تصدیق کرتا ہے نہ مسترد۔

اِن لاپتا بچوں کی تلاش کے لیے ہزاروں کی تعداد میں اسرائیلی فوجی گھر گھر کی تلاشی لے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینی آبادی کے ساتھ تناؤ میں اضافہ آیا ہے اور جھڑپیں واقع ہوئی ہیں۔ جب سے یہ بچے لاپتا ہوئے ہیں، 360سے زائد فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا ہے، جن میں زیادہ تعداد حماس کے ارکان کی ہے۔

XS
SM
MD
LG