رسائی کے لنکس

مشرقی یروشلم میں 200 نئے گھر تعمیر کرنے کی اجازت


فائل

فائل

امریکی محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ اس بات پر امریکہ کو سخت تشویش ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے باعث مشکل صورت حال مزید کشیدہ ہوجائے گی، جس سے تناؤ میں کمی لانے کی جاری کوششوں میں مدد نہیں ملے گی

اسرائیلی حکام نے یروشلم کے ایک یہودی علاقے میں 200 نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دی ہے، جس اقدام کے باعث فلسطینیوں کی برہمی میں اضافے کا امکان ہے، ایسے میں جب پہلے ہی دونوں فریق کے مابین کشیدگی بڑھی ہوئی ہے۔

حکومت کی ایک خاتون ترجمان نے کہا ہے کہ اہل کاروں نے بدھ کے روز اِن گھروں کی منظوری دی، جو ’راموت‘ کے اُس علاقے میں ہے، جو یروشلم کے شمالی کنارے پر واقع ہے۔

فلسطینی حکام کی طرف سے فوری طور پر اس معاملے پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔

تاہم، امریکی محکمہٴخارجہ کی خاتون ترجمان، جین ساکی نے کہا ہے کہ اس بات پر امریکہ کو شدید تشویش لاحق ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کے باعث مشکل صورت حال مزید کشیدہ ہوجائے گی، جس سے تناؤ میں کمی لانے کی جاری کوششوں میں مدد نہیں ملے گی۔

ساکی نے بدھ کے روز مغربی کنارے میں ایک مسجد کو نذر آتش کیے جانے کے واقعے کی بھی مذمت کی، جو مبینہ طور پر اسرائیلی انتہا پسندوں کی کارستانی ہو سکتی ہے۔


اُنھوں نے کہا ہے کہ کسی بھی عبادت گاہ کے خلاف نفرت آمیز عمل کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری جمعرات کو اردن کا دورہ کریں گے، جہاں وہ فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔

حالیہ دِنوں کے دوران اسرائیل میں ہونے والی تشدد کی کارروائیوں کا سبب ’ٹیمپل ماؤنٹ‘ کا تنازعہ ہے، جو مسلمانوں کے لیے ایک متبرک مقام ہے، جسے وہ مسجد الاقصیٰ کہتے ہیں، جب کہ، اِس مقام کی مسلمان اور یہودی، دونوں ہی تعظیم کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG