رسائی کے لنکس

فلسطینیوں کا اپنی آزاد ریاست کے قیام کےلیے مارچ


فلسطینیوں کا اپنی آزاد ریاست کے قیام کےلیے مارچ

فلسطینیوں کا اپنی آزاد ریاست کے قیام کےلیے مارچ

فلسطینیوں نے اپنے علاقے کو اقوام متحدہ میں ایک مکمل ریاست کا درجہ دلوانے کے لیے پبلک رلیشنز پر مبنی کوششیں شروع کردی ہیں۔ جب کہ ایک روز قبل امریکی سفارت کاروں نے انہیں ریاستی درجہ حاصل کرنے کی اپنی مہم سے روکنے کی کوشش کی تھی۔

تقریباً ایک سو فلسطینی عہدے داروں اور سرگرم کارکنوں نے جمعرات کے روز رملہ میں اقوام متحدہ کے دفتر کی طرف مارچ کیا جہاں انہوں نے اقوام متحدہ کے ایک عہدے دار کواپنی خواہشات پر مبنی ایک خط پیش کیا۔

یہ خط اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بن کی مون کے نام ہے جس میں ان سے فلسطینی ریاست کو رکن کا درجہ دلانے میں مدد کی اپیل کی گئی ہے۔

فلسطینیوں کا کہناہے کہ وہ 20 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے قبل کئی پرامن مظاہرے کریں گے۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے فلسطین کی رکنیت کے حق میں ووٹ کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہوگی لیکن اس کے ذریعے انہیں ایک ریاست کے قیام میں بین الاقوامی حمایت حاصل ہوجائے گی۔

فلسطینی یہ چاہتے ہیں کہ اقوام متحدہ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ سے قبل کی سرحدوں پرمبنی خطے کو ان کی ریاست کے طورپر تسلیم کرلے۔ جب کہ اسرائیل ان حدود کو تسلیم نہیں کرتا۔

بدھ کے روز دو امریکی سفارت کاروں نے فلسطینیوں کو اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کی بجائے امریکہ کی ثالثی میں اسرائیل کے ساتھ مذاکرات پر قائل کرنے کے لیے فلسطینی راہنما محمد عباس سے ملاقات کی تھی۔

مذاکرات کے بعد مسٹر عباس کے ایک مشیر نبیل ابو رودینا کے حوالے سے کہاگیا ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان بدستور طویل فاصلے موجود ہیں۔

اسرائیل اور فلسطنیوں کے درمیان مذاکرات ایک سال قبل مغربی کنارے پر اسرائیلی تعمیرات پر عائد عارضی پایندی کے اختتام کے بعدتعطل کاشکار ہوگئے تھے ۔فلسطینی اس سرزمین پر جسے وہ اپنی مستقبل کی ریاست کا حصہ سمجھتے ہیں، اسرائیلی تعمیرات کے خلاف ہیں۔

XS
SM
MD
LG