رسائی کے لنکس

عرب ممالک فلسطینیوں کو امن مذاکرات میں واپس لاسکتے ہیں: نیتن یاہو


فائل فوٹو
فائل فوٹو

تل ابیب کے قریب ایک تزویراتی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے فلسطینیوں کو مذاکرات میں 14 ماہ کے تعطل کا ذمہ دار ٹھہرایا مگر کہا کہ اگر فلسطینیوں کو قائل کیا جا سکے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ عرب ریاستیں فلسطینیوں کو اسرائیل فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات کی طرف واپس لا سکتے ہیں۔

تل ابیب کے قریب ایک تزویراتی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے فلسطینیوں کو مذاکرات میں 14 ماہ کے تعطل کا ذمہ دار ٹھہرایا مگر کہا کہ اگر فلسطینیوں کو قائل کیا جا سکے تو مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کا امکان ہے۔

نیتن یاہو نے سالانہ ہرٹزلیہ کانفرنس میں کہا کہ ’’کچھ عرب ریاستیں (میرے مؤقف) سے خاموشی سے اتفاق کرتی ہیں (اور) ممکن ہے کہ وہ فلسطینییوں کو ایک مفاہمانہ اور مثبت رویہ اپنانے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتی ہوں۔‘‘

امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اپریل 2014 میں تعطل کا شکار ہو گئے تھے، جن میں فلسطینیوں نے اسرائیل پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم سمیت ان علاقوں میں یہودیوں کی آبادکاری کر رہا ہے جہاں وہ ایک آزاد ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں، جبکہ اسرائیل فلسطینی صدر محمود عباس کے حماس کے ساتھ اتحاد کے معاہدے سے ناراض ہو گیا تھا۔

اسرائیل کی طرح عرب خلیجی ریاستیں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں تشویش کا شکار ہیں، جو ان کے بقول ان کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لیے ہے۔

ایک گھنٹے سے زیادہ لمبی تقریر میں نیتن یاہو نے کہا کہ عالمی طاقتوں کے ذریعے اسرائیل کو امن معاہدہ کرنے پر مجبور کرنے کی فلسطینی کوششوں کے منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ دو ریاستی حل کے لیے پر عزم ہیں۔ مگر اس سے قبل وزیرِ دفاع موشے یالون نے کہا تھا ان کے خیال میں فلسطینیوں کے ساتھ ایک مستحکم امن معاہدہ ان کی زندگی میں ہونا ممکن نہیں۔

XS
SM
MD
LG