رسائی کے لنکس

فلسطین: اقوام متحدہ کا ووٹ، اسرائیل کی جوابی کارروائی


’اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کا یکطرفہ اقدام امن سمجھوتوں کی انحرافی ہے۔ فلسطینی ریاست اور امن کے حصول کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات‘: وزیر اعظم نیتن یاہو

اقوام متحدہ کی طرف سے جمعرات کو فلسطینی ریاست کےمعاملے پر رائے دہی پر جوابی کارروائی کرتے ہوئے، اسرائیل نے ٹیکس اور محصول کی مد میں جمع ہونے والی12کروڑ ڈالر کی رقوم روک دینے کا اعلان کیا ہے، جو فلسطینی اتھارٹی کی طرف اسرائیلی کمپنیوں کو قرضےکی ادائگی میں واجب الادا ہیں۔

اتوار کے روز اسرائیلی کابینہ نے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جس میں کہا گیا ہے کہ جس طرح سے جنرل اسمبلی نے مقبوضہ مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ پٹی میں فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا ہے اِس بنیاد پر مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

اسرائیل کی طرف سے قرارداد کو مسترد کرنے کی توجیہ پیش کرتے ہوئے، وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کا یکطرفہ اقدام امن سمجھوتوں کی خلاف ورزی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ فلسطینی ریاست اور امن کے حصول کا ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات۔

اسرایلی وزیر مالیات، یُول اسٹائنز نے کہا ہے کہ جو رقم فلسطینیوں کو منتقل کی جانے والی تھی، حکومت اُسے اسرائیلی ریاست کی جانب سے چلائی جانے والی برقی رو کمپنی اور دیگر اسرائیلی فرمز کو قرضے کی ادائگی میں دے دی جائے گی۔

کابینہ نے ایک اور منصوبے کی منظوری دی جس کے تحت مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودیوں کے لیے 3000نئے گھر تعمیر کیے جائیں گے۔

مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ووٹ کے جواب میں، اسرائیل بستیوں کی تعمیر کا کام جاری رکھے گا۔ اقوام متحدہ کی ووٹنگ کو اُنھوں نے ’یہودیت اور اسرائیلی ریاست کے خلاف ایک حملہ‘ قرار دیا۔

اتوار کو کیا جانے والا اقدام سفارتی فتح کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس کو مغربی کنارے کے شہر رملہ میں بڑے ہجوم کی طرف سے ملنے والے خیر مقدم کے بعد سامنے آیا ہے۔ وہ گذشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے قرار داد منظور ہونے کے بعد رملہ واپس پہنچے ہیں، جہاں فلسطین کو غیر رکن مبصر ریاست کا درجہ دیا گیا۔

عباس نے پانچ ہزار کے اجتماع سے خطاب میں کہا کہ، ’ دنیا نے فلسطین کی ریاست کو مان لیا ہے، دنیا نے فلسطین کی آزادی کو مان لیا ہے، فلسطین کی آزادی کو مان لیا ہے، جارحیت کی نفی کی ہے، بستیوں کی تعمیر اور قبضے کی نفی کی ہے‘۔
XS
SM
MD
LG