رسائی کے لنکس

اسرائیلی وزیر اعظم منگل کو امریکی کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جس کی دعوت انہیں ایوان نمائندگان کی اسپیکر جان بوہینر نے دی تھی۔

اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے ہفتے کو کہا کہ وہ صدر براک اوباما کا احترام کرتے ہیں اور امریکہ کے ساتھ مضبو ط تعلقات پر یقین رکھتے ہیں تاہم اسرائیل کی سلامتی ان کی پہلی ترجیح ہے۔

نیتن یاہو آئندہ ہفتے اپنے واشنگنٹن کے متنازع دورے سے پہلے یروشلیم کی سب سے مقدس جگہ مغربی دیوار پر دعا مانگنے کے لیے گئے۔

اسرائیلی وزیر اعظم منگل کو امریکی کانگرس کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کریں گے جس کی دعوت انہیں ایوان نمائندگان کی اسپیکر جان بوہینر نے دی تھی۔ وہ ممکنہ طور پر ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کے خلاف بات کریں گے۔

انہوں نے ہفتہ کو کہا کہ "میری یہ ذمہ داری ہے کہ میں نہ صرف اسرائیل کی ریاست کے بارے میں پریشان ہوں بلکہ تمام یہودیوں کے مستقبل کے لیے اور ہم کھڑے ہوں اور (اس کے لیے) اپنی آواز اٹھائیں"۔

نازی ہولوکاسٹ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ " اسی (80 ) سال پہلے کوئی بھی اپنی آواز نہیں اٹھا سکتا تھا جب ہمیں تباہ کرنے کے منصوبے تھے۔ آج (کوئی موجود) ہے اور یہ میری ذمہ داری ہے"۔

امریکہ اور P5+1 شراکت دار برطانیہ، چین، فرانس اور روس جو کہ اس کے ساتھ سلامتی کونسل کے مستقل ارکان ہیں اور بشمول جرمنی، ایران کے ساتھ ایک ایسا معاہدے چاہتے ہیں جو اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روک سکے۔

نیتن یاہو نے کہا کہ یہ ایک خراب معاہدہ ہو گا جو ایران کو بہت زیادہ رعایتیں دے گا اور ان کے پاس ایک ایسی صلاحیت آ جائے گی جس سے وہ جوہری ہتھیار بنا سکیں گے۔

اوباما انتطامیہ کا اصرار ہے کہ وہ ایران کو جوہری بم نہیں بنانےدے گی اور وہ اسرائیل کی سلامتی پر یقین رکھتی ہے۔ تاہم وہ اس بات پر برہم ہے کہ بوہنیر نے وائٹ ہاؤس کو بغیر بتائے وزیراعظم نیتن یاہو کو کانگرس سے خطاب کرنے کی دعوت دی۔

سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن اور جرمنی کو معاہدہ کرنے کے لیے 30 جون کی ڈیڈ لائن کا سامنا ہے جس سے ایران کے یورینیم افژودگی کے پروگرام کو محدود کرنا ہے تاکہ اس کے بدلے میں ان پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے جس سے ایران کو معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

ایران کا اصرار ہے کہ اس کو جوہری بم بنانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔

XS
SM
MD
LG