رسائی کے لنکس

شام کا اسرائیلی فوجی طیارہ گرانے کا دعوی، اسرائیل کا انکار


اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے تمام طیارے جمعے کی صبح شام کے اندر کئی اہداف پر حملوں کے بعد بحفاظت واپس پہنچ گئے۔

شام نے کہا ہے کہ اس نے ایک اسرائیلی فوجی طیارہ مار گرایا اور دوسرے کو نقصان پہنچایا۔

لیکن اسرائیل کا کہنا ہے کہ اس کے تمام طیارے جمعے کی صبح شام کے اندر کئی اہداف پر حملوں کے بعد بحفاظت واپس پہنچ گئے۔

اسرائیل نے یہ نہیں بتایا کہ اس کے اہداف کیا تھے، لیکن شام کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جیٹ طیاروں نے پالمیرا کے نزدیک ایک فوجی ہدف پر حملہ کیا۔

دمشق کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی اس جارحیت سے داعش کو مدد ملی۔

اسرائیل کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے ایک شاذونادر بیان میں اس کارروائی کا اعتراف کیا گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 17 مارچ کی رات اسرائیلی ایئر فورس کے طیاروں نے شام کے اندر کئی اہداف کو نشانہ بنایا۔اس کارروائی کے بعد شام کی جانب سے کئی میزائل داغے گئےجن میں سےایک میزائل کو اسرائیل کے اینٹی میزائل نظام نےآگے آنے سے روک دیا۔ کسی بھی موقع پر اسرائیلی شہریوں یا اس کے طیاروں کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کی وادی جولان میں جمعے کی صبح فضائی حملے کے خطرے کے سائرن بجائے گئے۔

شام کی جانب سے اسرائیلی طیاروں پر میزائل داغنے کے واقعات انتہائی کم ہیں۔ تاہم اسرائیلی فوجی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ کچھ مہینے پہلے شام کی جانب سے کندھے پر رکھ کر داغا جانے والا میزائل پھینکا گیا تھا۔

اپنی سرحد کے قریب جاری شام کی خانہ جنگی سے اسرائیل زیادہ تر محفوظ رہا ہے۔ کبھی کبھار ہونے والے واقعات زیادہ تر سرحد پار سے آنے والا فائر ہوتا ہے جسے شام کے صدر بشار الاسد کی فورسز کی تکنیکی غلطی قرار دے کر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔اسرائیل اس طرح کے بھٹک کر آنے والے فائر کابہت نرم جواب دیتا رہا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG