رسائی کے لنکس

اُنھوں نے کہا کہ اسرائیل ’دراندازی اور دہشت گردی‘ کےخطرے سے نمٹنے کے لیے اپنی سرحد کا دفاع کرے گا

شام میں جاری خانہ جنگی کےباعث ہمسائیوں پر پڑنے والے اثرات کےسلسلے میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پیش ِنظر، اسرائیل شام کے ساتھ اپنی سرحد کو پختہ بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

رابرٹ برجر نے یروشلم سے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیل گولان کی پہاڑی پر پانچ میٹر اونچائی والی باڑ لگانے کا ارادہ رکھتا ہے. شام کے اِس علاقے کو 1967ء میں فتح کیا گیا تھا۔

اسرائیل اِس بات کا بھی خواہاں ہے کہ خندقوں کو مزید مضبوط بنایا جائے، خاردار باڑ لگائی جائے اورفوج کے گشت کے لیے ایک سڑک تعمیر کی جائے۔

وزیر اعظم بینجامن نیتن یاہو نے اتوار کے روز اپنی کابینہ کو بتایا کہ شام کی فوج سرحد سے دور جا چکی ہے، اور اُس کی جگہ، اُن کے بقول، ’عالمی جہاد‘ کرنے والے وارد ہو چکے ہیں۔ یہ اسطلاح مشرق وسطیٰ کے ممالک سے آنے والے اسلامی شدت پسندوں کو ظاہر کرتی ہے، جِن میں القاعدہ بھی شامل ہے۔

مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل ’دراندازی اور دہشت گردی‘ کے خطرے کےخلاف اپنی سرحد کا دفاع کرے گا۔

اب تک اسرائیل شام کے تنازعے سے الگ تھلگ رہا ہے، لیکن حالیہ دِنوں کے دوران بھاری دہانے والےگولے اسرائیل کے کنٹرول گولان کے پہاڑی علاقے پر گر چکے ہیں، جِس کے باعث فوج فائر کا جواب دینے پر مجبور ہوئی۔

اِن واقعات کے باعث اِس تشویش نے زور پکڑ لیا ہے کہ شام کی خانہ جنگی اسرائیل کی طرف پھیل سکتی ہے۔

تاہم، اسرائیل کی سب سے بڑی تشویش یہ ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیار لبنان کے القاعدہ یا حزب اللہ کے گروہوں سے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔

مسٹر نیتن یاہو نے کہا کہ شام کی حکومت انتہائی غیر مستحکم ہے اور اُس کےکیمیائی ہتھیار وں کے بارے میں تشویش بڑھتی جا رہی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اسرائیل امریکی انٹیلی جنس اور دیگر اتحایوں کے ساتھ رابطے میں ہے، اور کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے ہمہ و تن تیار ہے۔
اُنھوں نے اِس بات کی وضاحت نہیں کی۔

لیکن، دو ماہ قبل، وزیر اعظم نے یورپی سفارت کاروں کو بتایا تھا کہ اسرائیل کی کوشش یہ ہوگی کہ اِس بات کو یقینی بنایا جائے کہ شام کے کیمیائی ہتھیار دہشت گردوں کے ہاتھ نہ چڑھیں، جِس میں ’فوجی آپشن‘ بھی شامل ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG