رسائی کے لنکس

امریکی عہدے داروں نے سی این این اور ’دی نیو یارک ٹائمز‘ کو بتایا ہے کہ اسرائیل نے پانچ جولائی کو ’یخونت‘ میزائل کی رسد کو نشانہ بنایا، کیونکہ اُسے اِس بات کا خدشہ تھا کہ اِنھیں اسرائیلی بحری افواج کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے

امریکی اہل کاروں کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام کی بندرگاہ، لتاکیہ پر حملہ کرکے روسی ساخت کے بحری جہاز شکن میزائل کی رسد کو ہدف بنایا، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس سال شام میں اِس قسم کی یہ چوتھی کارروائی تھی۔

عہدے داروں نے سی این این اور ’دی نیو یارک ٹائمز‘ کو بتایا کہ اسرائیل نے پانچ جولائی کو ’یخونت‘ میزائل کی رسد کو نشانہ بنایا، کیونکہ اُسے اِس بات کا خدشہ تھا کہ اِنھیں اسرائیلی بحری افواج کے خلاف استعمال کیا جاسکتا ہے۔

علاقائی میڈیا نے اپنی خبروں میں بتایا ہے کہ اُسی روز لتاکیہ میں زوردار دھماکے ہوئے، لیکن یہ واضح نہیں ہوپایا کہ اِن کا ذمہ دار کون ہے۔ اسرائیل نے اس واقع میں ملوث ہونے کی نہ تو تصدیق کی ہے، نہی اِسے مسترد کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے، اسرائیل کی وزیر دفاع موشے یعلون نے اسرائیل کے اِس عہد کا اعادہ کیا تھا کہ وہ شام کی خانہ جنگی سے دور رہے گا۔

اُنھوں نے اسرائیل کےخودساختہ ’ریڈ لائنز‘ کے نفاذ کےعہد کا بھی اعادہ کیا تھا، تاکہ شامی راہنما حزب اللہ کے اپنے لبنانی اتحادیوں کو جدید اسلحہ فراہم کرنے میں کامیاب نہ ہوجائیں۔

سنہ 2006میں اسرائیل حزب اللہ کےخلاف ایک ماہ طویل جنگ لڑ چکا ہے۔

امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، جنوری اور مئی میں اسرائیل نے شام پر دو بار حملہ کیا ، تاکہ اسلحے کی روسی اور ایرانی رسد تباہ کی جائے جس کے بارے میں خدشہ تھا کہ اُسے حزب اللہ کو فراہم کیا جائے گا۔

اسرائیل نے اِن حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے یا اِنہیں مسترد کرنے سے انکار کیا ہے۔
XS
SM
MD
LG