رسائی کے لنکس

بائیکاٹ کے حامیوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی کا قانون منظور


فائل
فائل

قانون کے تحت اسرائیلی حکومت 'بی ڈی ایس' کے نام سے معروف بین الاقوامی تحریک سے منسلک کارکنوں اور رضاکاروں کو اسرائیل کا ویزہ یا رہائشی پرمٹ دینے سے انکار کرسکے گی۔

اسرائیلی پارلیمان نے اسرائیل کے بائیکاٹ کی حق میں مہم چلانے والے غیر ملکی شہریوں کے اسرائیل میں داخلے پر پابندی سے متعلق ایک قانون کی منظوری دیدی ہے۔

قانون کے تحت اسرائیلی حکومت 'بائیکاٹ، ڈائیوسٹمنٹ اینڈ سینکشنز' یا 'بی ڈی ایس' کے نام سے معروف بین الاقوامی تحریک سے منسلک کارکنوں اور رضاکاروں کو اسرائیل کا ویزہ یا رہائشی پرمٹ دینے سے انکار کرسکے گی۔

تاہم اس قانون سے اسرائیل کے اپنے شہری اور ایسے غیر ملکی رضاکار متاثر نہیں ہوں گے جن کے پاس پہلے سے ہی اسرائیل میں رہنے کا اجازت نامہ موجود ہے۔

منگل کو قانون کی منظوری کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیر برائے عوامی تحفظ گیلاد ایردان نے کہا کہ دوسرے تمام ملکوں کی طرح اسرائیل کو بھی یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ کسے سرحد پار کرنے کی اجازت دی جائے اور کسے روکا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل مخالف رضاکاروں کے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کرنا ان افراد کے خلاف اسرائیلی حکومت کا ایک اور قدم ہےجو انسانی حقوق کی آڑ میں اسرائیل کے خلاف تحریک چلاتے ہیں۔

لیکن ناقدین نے اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کو آزادیٔ اظہارِ رائےپر ایک حملہ قرار دیا ہے۔

بائیکاٹ کی عالمی تحریک کے بانی عمر برغوطی نے اپنے ردِ عمل میں مذکورہ قانون کو "شکست خوردہ اسرائیلی حکومت کا ردِ عمل" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت خود ہی اپنی ریاست کی ہزیمت کا سبب بن رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی اس پابندی کے نتیجے میں تحریک سے وابستہ کارکن مزید متحرک ہوں گے۔

اسرائیل کی جانب سے فلسطینی علاقوں پر قبضے کی تحریک چلانے والی بین الاقوامی تنظیم 'پیس ناؤ' کی امریکی شاخ'امیریکن فار پیس ناؤ' نے بھی نئے قانون کو اسرائیل کی جمہوریت کے لیے ایک دھچکا قرار دیا ہے۔

'بی ڈی ایس' کے حامیوں کے مطابق ان کی تحریک عدم تشدد پر یقین رکھتی ہے جس کا مقصد دنیا کو فلسطینیوں کی جدوجہدِ آزادی اور اسرائیل کی مقبوضہ پالیسیوں سے آگاہ کرنا ہے۔

دنیا بھر میں ہزاروں رضاکار اور درجنوں غیر سرکاری اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اس تحریک سے وابستہ ہیں جو کاروباری اداروں اور کمپنیوں، فن کاروں اور جامعات کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات منقطع کرنے پر آمادہ کرتے ہیں تاکہ اسرائیلی حکومت پر دباؤ بڑھایا جاسکے۔

XS
SM
MD
LG