رسائی کے لنکس

'یونیسکو' میں فلسطین کی رکنیت، اسرائیل کا جوابی اقدامات پر غور


'یونیسکو' میں فلسطین کی رکنیت، اسرائیل کا جوابی اقدامات پر غور

'یونیسکو' میں فلسطین کی رکنیت، اسرائیل کا جوابی اقدامات پر غور

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو منگل کو اپنے اعلیٰ سطحی مشیران سے ملاقات کر رہے ہیں جس میں 'اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم، سائنس و ثقافت (یونیسکو)' کی جانب سے فلسطین کو رکنیت دینے کے معاملے پر اسرائیل کے ممکنہ جوابی اقدامات پر غور کیا جائے گا۔

اسرائیلی حکام کے مطابق ملاقات میں ایسے اقدامات پر بھی غور ہوگا جن کے ذریعے فلسطینیوں کو سبق سکھایا جاسکے جنہوں نے 'یونیسکو' کی رکنیت کے حصول کو ایک تاریخی لمحہ قرار دیتے ہوئے اس کا زبردست خیرمقدم کیا ہے۔

'یونیسکو' فلسطین کو مکمل رکن کا درجہ دینے والی اقوامِ متحدہ کی پہلی ایجنسی ہے اور اس سے فلسطینی حکام کی ان کوششوں کو تقویت ملے گی جو وہ اپنے ملک کو عالمی برادری سے ایک آزاد ریاست کی حیثیت سے تسلیم کرانے کے لیے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے گزشتہ ماہ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر فلسطین کے لیے عالمی ادارے کی مکمل رکنیت کے حصول کی درخواست دائر کی تھی جو اس وقت سلامتی کونسل میں زیرِ غور ہے۔

پیرس میں واقع 'یونیسکو' کے صدر دفتر میں پیر کو ہونے والے اجلاس کے دوران فلسطینی درخواست پر رائے شماری کرائی گئی تھی جس میں فلسطینی درخواست کی حمایت میں 107 ووٹ آئے جب کہ صرف 14 اراکین نے درخواست کی مخالفت کی۔ 52 ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔

تاہم فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کے نتیجے میں ایجنسی کو نہ صرف اپنے سالانہ بجٹ کے لگ بھگ ایک تہائی حصے سے محروم ہونا پڑا ہے بلکہ امریکی اور اسرائیلی حکام کی کڑی تنقید بھی برداشت کرنا پڑی ہے جنہوں نے ایجنسی کے اس اقدام کو مشرقِ وسطیٰ میں امن کے امکانات کے لیے نقصان دہ قرار دیا ہے۔

امریکہ کے محکمہ خارجہ نے پیر کو فلسطینی درخواست کی منظوری کے بعد اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی جانب سے 'یونیسکو' کو فراہم کیے جانے والے عطیہ کی ماہِ نومبر میں ادا کی جانے والی 6 کروڑ ڈالرز کی قسط روک لی گئی ہے کیوں کہ ایک امریکی قانون واشنگٹن انتظامیہ کو اقوامِ متحدہ کے کسی بھی ایسے ادارے کو فنڈز فراہم نہ کرنے کا پابند کرتا ہے جس نے فلسطین کو رکنیت دے رکھی ہو۔

واضح رہے کہ امریکہ 'یونیسکو' کو عطیات دینے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو ایجنسی کے کل بجٹ کا 22 فی صد ادا کرتا ہے۔

ادارے کی ڈائریکٹر جنرل اِرینا بوکووا نے ایجنسی کے اراکین کی جانب سے فلسطینی رکنیت کی منظوری کے بعد کہا ہے کہ وہ ایجنسی کے معاشی استحکام کےحوالے سے تشویش میں مبتلا ہیں۔

'وہائٹ ہاؤس' نے فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کے 'یونیسکو' کے فیصلے کو "قبل از وقت" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے جامع عمل کی بحالی کا مقصد متاثر ہوگا۔

XS
SM
MD
LG