رسائی کے لنکس

فلسطینوں سے امن مذاکرات کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی ایک اور کوشش


اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو اور صدر براک اوباما

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نتن یاہو اور صدر براک اوباما

وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے دفتر کے ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں 1967ء کی فائربندی کی لائن کی بنیاد پر مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحدوں کے تعین پر بات چیت کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل کے عہدے داروں نے کہاہے کہ وہ فلسطنیوں کے ساتھ امن مذاکرات بحال کرنے اور بات چیت کے تعطل کو دور کرنے کے لیے ایک آخری کوشش کررہے ہیں تاکہ اگلے مہینے اقوام متحدہ میں کسی سفارتی تنازع سے بچا جاسکے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے منگل کے روز کہا کہ امریکہ، اس سے پہلے کہ ستمبر میں فلسطینی اقوام متحدہ سے اپنی آزادانہ حیثیت تسلیم کرنے کے لیے کہیں، دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے سخت محنت کررہاہے۔

ایسوسی ایٹڈپریس نے اسرائیلی عہدے داروں کے حوالے سے کہاہے کہ دونوں اتحادی کسی ایسے پیکیج کی تیاری پر کام کررہے ہیں جس کے نتیجے میں مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہوسکے اور فلسطینیوں کو اقوام متحدہ سے اپیل کرنے سے روکا جاسکے۔

پیر کے روز وزیراعظم بنجمن نتن یاہو کے دفتر کے ذرائع نے کہا کہ وہ مغربی کنارے میں 1967ء کی فائربندی کی لائن کی بنیاد پر مستقبل کی فلسطینی ریاست کی سرحدوں کے تعین پر بات چیت کے لیے تیار ہوگئے ہیں۔

پالیسی میں اس ڈرامائی تبدیلی کے بارے میں عہدے داروں کا کہناہے کہ اس کا مقصد فلسطینوں کےساتھ براہ راست مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ہے اور مسٹر نتن یاہو ایک ایسے مجوزہ فارمولے پر بات چیت کے لیے تیار ہوسکتے ہیں جسے تسلیم کرنا اسرائیل کے لیے مشکل ہے۔

XS
SM
MD
LG