رسائی کے لنکس

جمعرات کی صبح ہونے والی کارروائی اب تک کی سب سے زیادہ مہلک کارروائی تھی اور ہلاک ہونے والوں میں ایک ہی خاندان کے چار بچے بھی شامل ہیں۔

اسرائیل نے غزہ میں عسکریت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائیاں تیسرے روز بھی جاری رکھیں اور جمعرات کو ان میں زیادہ شدت دیکھی گئی۔

جمعرات کو غزہ میں متعدد مقامات کو فضائی کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا جس میں غزہ شہر میں ایک گاڑی میں سوار تین لوگ جب کہ خان یونس میں ایک عمارت پر بمباری سے آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔

اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ اس نے رات بھر جاری رہنے والے حملوں میں تین سو سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا اور یوں منگل سے شروع ہونے والی اس کارروائی میں اب تک 750 جگہوں پر بمباری کی جا چکی ہے۔ ان حملوں میں اب تک کم ازکم 72 فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائی سے غزہ کی پٹی کے جنوبی علاقے خان یونس میں دو مکان بھی تباہ ہو گئے ہیں۔

دوسری طرف حماس کے جنگجوؤں نے تل ابیب اور دوسرے شہروں پر راکٹ داغے ہیں لیکن ان حملوں میں کوئی شخص ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔

اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کے میزائل کے دفاعی نظام نے جمعرات کو تل ابیب پر داغے جانے والے کم ازکم ایک راکٹ کو روکا۔ اسی نظام کے تحت مشرقی علاقے میں بھی ایک راکٹ کو ہدف تک پہنچنے سے روکا گیا۔

دوسری طرف اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر غور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلا لیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے راکٹ حملوں کی مذمت کی ہے اور ساتھ ہی اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ تحمل سے کام لے۔ بان کی مون جمعرات کو ہونے والے سلامتی کونسل کے اجلاس میں اسرائیل اور فلسطین کی موجودہ صورت حال پر خطاب بھی کریں گے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ فضائی کارروائیوں کا مقصد فلسطینی علاقوں سے حماس کی طرف سے داغے جانے والے راکٹوں کو روکنا ہے۔

XS
SM
MD
LG