رسائی کے لنکس

سابق اسرائیلی فوجی اہلکار داعش میں شامل: حکام


فائل

فائل

رپورٹ کے مطابق سابق اہلکار کا تعلق اسرائیل کی عرب اقلیت سے ہے اور وہ اسرائیلی کے شمالی علاقے میں واقع ایک گاؤں کا رہائشی ہے۔

اسرائیلی حکام نے ذرائع ابلاغ میں آنے والی ان اطلاعات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیلی فوج کا ایک سابق مسلمان اہلکار شدت پسند تنظیم داعش میں شامل ہو کر شام میں لڑائی میں مصروف ہے۔

اسرائیلی خبر رساں ایجنسی 'ولا نیوز' نے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ داعش کا حصہ بننے والا شخص اسرائیلی فوج کی گیواتی انفینٹری بریگیڈ سے منسلک رہا ہے جو غزہ کے ارد گرد تعینات ہے۔

رپورٹ کے مطابق سابق اہلکار کا تعلق اسرائیل کی عرب اقلیت سے ہے اور وہ اسرائیلی کے شمالی علاقے میں واقع ایک گاؤں کا رہائشی ہے۔

اسرائیل کی کل آبادی کا لگ بھگ 20 فی صد عرب باشندوں پر مشتمل ہے جنہیں فوج کی لازمی سروس سے استثنیٰ حاصل ہے۔ لازمی سروس سے استثنیٰ کے باعث بہت کم عرب فوجی یا نیم فوجی فورسز میں بھرتی ہوتے ہیں یا خود کو رضاکارانہ سروس کے لیے پیش کرتے ہیں۔

اسرائیلی فوج کے ایک افسر نے خبر رساں اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ حکام کو اس واقعے کا علم ہے اور اس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔

فوجی افسر نے بتایا ہے کہ داعش کا حصہ بننے والا اہلکار جنوری 2014ء میں فوجی سروس سے سبکدوش کردیا گیا تھا۔

اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ اب تک درجنوں عرب اسرائیلی داعش کا حصہ بن چکے ہیں اور تنظیم کے جنگجووں کے ساتھ مل کر شام اور عراق میں شدت پسندی کی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اسرائیلی حکام کی تشویش میں رواں سال اکتوبر میں اس وقت اضافہ ہوگیا تھا جب داعش کے جنگجووں کی جانب سے دو ویڈیوز جاری کی گئی تھیں جن میں عربی لہجے میں عبرانی بولنے والے جنگجووں کو اسرائیل پر حملے کی دھمکی دیتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG