رسائی کے لنکس

اسرائیلی وزیرِ دفاع کا سیاست چھوڑنے کا اعلان


اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود براک

اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود براک

ستر سالہ اسرائیلی رہنما کے بقول وہ "سیاسی زندگی کی مصروفیات سے اکتا گئے ہیں اور اب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں"۔

اسرائیل کے وزیرِ دفاع ایہود براک نے اعلان کیا ہے کہ وہ جنوری میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے بعد سیاست سے دستبردار ہوجائیں گے۔

پیر کو دارالحکومت تل ابیب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیرِ دفاع – جو ماضی میں اسرائیل کے وزیرِ اعظم بھی رہ چکے ہیں - نے کہا کہ وہ جنوری میں ہونے والے عام انتخابات میں حصہ نہیں لیں گے لیکن نئی حکومت بننے تک وزیرِ دفاع کی موجودہ ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

پریس کانفرنس میں 70 سالہ اسرائیلی رہنما نے موقف اختیار کیا کہ وہ "سیاسی زندگی کی مصروفیات سے اکتا گئے ہیں اور اب اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں"۔

ان کے بقول سیاست سے دستبرداری کا ایک مقصد دوسروں کو آگے آنے کا موقع دینا ہے تاکہ وہ قائدانہ مناصب سنبھال کر اسرائیلی قوم کی خدمت کرسکیں۔

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ایہود براک کے سیاست چھوڑنے کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل کے دفاع کو مضبوط بنانے کے ضمن میں ان کی خدمات پر انہیں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

یاد رہے کہ ایہود براک نے 2011ء میں اسرائیل کی 'لیبر پارٹی' سے قطع تعلقی کے بعد بائیں بازو کے رجحانات رکھنے والی اپنی علیحدہ جماعت 'انڈی پینڈنس پارٹی' قائم کی تھی۔

ایہود براک کی جماعت وزیرِاعظم نیتن یاہو کی سربراہی میں قائم حکومت کی قریبی اتحادی ہے اور اسرائیلی کابینہ میں ان کی جماعت کے پاس دفاع کے علاوہ صنعت، تجارت اور محنت جیسی تین دیگر اہم وزارتیں بھی ہیں۔
XS
SM
MD
LG