رسائی کے لنکس

اسرائیل، فلسطین براہِ راست بات چیت بحال، مزید مزاکرات پر اتفاق


(دائیں سے ) فلسطینی صدر محمود عباس، امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور اسرائیلی وزیرآئظم بنجامن نتنیاہو

(دائیں سے ) فلسطینی صدر محمود عباس، امریکی وزیر خارجہ ہلری کلنٹن اور اسرائیلی وزیرآئظم بنجامن نتنیاہو

تقریباً دو سال کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں نے اپنے پہلے براہِ راست مذاکرات کا آغاز کر دیا ہے۔

جمعرات کوامریکی محکمہٴ خارجہ میں ہونے والی افتتاحی تقریب میں وزیرِ خارجہ ہلری کلنٹن نےاسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامن نتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس کے مابین ہونے والی بات چیت کےلیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ابتدائی بیانات کے اظہار کے لیے کمرہٴ اجلاس میں داخل ہوتے ہوئے تینوں عہدے داروں نے مسکراتے ہوئے ایک دوسرے سے ہاتھ ملایا۔

دونوں فریقین ستمبر کے وسط تک بات چیت کے دوسرے دورمیں شریک ہونے پر اتفاق کیا۔

مشرقِ وسطیٰ کے بارے میں امریکہ کےخصوصی ایلچی جارج مچل نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نتن یاہو اور فلسطینی صدر محمود عباس نے جمعرات کے دِن امریکی وزیرِ خارجہ کے ساتھ سیر حاصل بات چیت کی، جس کے بعد اُنھوں نے اکیلے میں ایک دوسرے سے ملاقات کی۔

مچل نے بتایا کہ دونوں رہنماؤں نے 14اور15سمتبر کو مشرقِ وسطیٰ کے علاقے میں ملاقات کرنے پر اتفاق کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ اُس کے بعد، اسرائیلی اور فلسطینی مذاکرات کار ہر پندرہ دِن کے بعد ملاقات کیاکریں گے۔

اِس سے قبل جمعرات کو مسٹر نتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل فلسطینیوں سے سلامتی اورزندہ رہنے کے حق کو پائیدار بنیادوں پر تسلیم کیے جانے کے بارے میں یقین دہانی چاہتا ہے۔

مسٹر عباس نے کہا کہ فلسطینیوں نے اسرائیل سے غیرقانونی بستیوں کی تعمیر کو روکنے اور غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کی اقتصادی ناکہ بندی ختم کرنے پر زور دیا۔

امریکی ایلچی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ آگے متعدد مشکلات سامنے آسکتی ہیں، لیکن یہ کہ دونوں رہنماؤں نے اعتماد کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کام کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ امریکہ اور مذاکرات میں شریک دوسرے فریق اس بات کی پرواہ نہیں کریں گے کہ ماضی کی کوششیں کسی سمجھوتے پر منتج نہیں ہو پائیں تھیں۔

XS
SM
MD
LG