رسائی کے لنکس

پتھر مارنے والوں پر جرمانہ عائد کیا جائے گا: اسرائیلی وزیراعظم


فائل فوٹو

فائل فوٹو

نتین یاہو کا کہنا تھا کہ "نئے یہودی سال کے آغاز سے قبل ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ پتھر کسی کی جان لے سکتے ہیں۔"

اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو نے مسجد الاقصیٰ کے گرد و نواح میں جاری کشیدگی کے تناظر میں پتھر مارنے والوں کے لیے سزاؤں کا اعلان کیا ہے۔

تین روز قبل مسلمانوں کے سب سے زیادہ مقدس مقامات میں سے ایک مسجد الاقصیٰ میں اسرائیلی فوجیوں کے گھسنے پر فلسطینی نوجوانوں نے ان پر پتھر برسائے جس ے جواب میں فوجیوں نے سن کر دینے والی گولیاں چلائیں۔

علاقے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر عالمی برادری نے یہاں لوگوں کو پرامن رہنے کی اپیل کی تھی لیکن صورتحال بدستور تناؤ کا شکار ہے۔

بدھ کو اپنے وزرا کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیتن یاہو نے اعلان کیا کہ " مختلف علاقوں میں مزید سخت اقدام کا فیصلہ کیا گیا ہے اور ایسے لوگ جو پتھر مارتے ہیں ان پر جرمانہ/سزا نافذ کی جائے گی۔"

ان کے بقول اگر کوئی بچہ ایسا کرے گا تو اس کے والدین پر جرمانہ عائد کیا جائے گا۔

نتین یاہو کا کہنا تھا کہ "نئے یہودی سال کے آغاز سے قبل ایک بار پھر یہ ثابت ہوا کہ پتھر کسی کی جان لے سکتے ہیں۔"

ان کا اشارہ اس اسرائیلی ڈرائیور کی طرف تھا جو اتوار کو یروشلم میں بظاہر پتھراؤ کی زد میں آنے کے بعد گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور موت کا شکار ہوا۔

امریکہ اور اقوام متحدہ یروشلم میں جاری تناؤ پر اپنی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں جب کہ اردن کے بادشاہ عبداللہ نے اسرائیلی اقدام کو اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دونوں ملکوں کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG