رسائی کے لنکس

اسرائیلی وزیراعظم کا مقتول عرب نوجوان کے والد کو فون


اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو

وزیر اعظم نیتن یاہو نے کہا کہ قاتلوں پر مقدمہ چلایا جائے گا اور ان کی خلاف مکمل قانونی طریقے سے اس مقدمے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ہلاک ہونے والے نو عمر فلسطینی لڑکے کے والد سے ٹیلی فون پر بات کی ہے اور ان کو یقین دہانی کروائی کہ حملہ آوروں کے خلاف مقدمہ چلایا جائے گا۔

سولہ سالہ محمد ابو خضیر کی جھلسی ہوئی لاش گزشتہ ہفتے یروشیلم کے جنگل سے ملی تھی جس پر فلسطینی کی طرف سے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ۔

ایک سرکاری بیا ن میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے فون پر بات کرتے ہوئے ابو خضیر کے والد حسین ابو خضیر سے کہا کہ ’’میں اپنے اور اسرائیلی شہریوں کی طرف سے آپ کے بیٹے کے افسوس ناک قتل پر دکھ کا اظہار کرتا ہوں‘‘۔

وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ’’قاتلوں پر مقدمہ چلایا جائے گا اور ان کی خلاف مکمل قانونی طریقے سے اس مقدمے کی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔‘‘

ابو خضیر کے والد کا موقف جاننے کے لیے ان سے رابطہ نہیں ہو سکا ہے، لیکن خاندان کے دوسرے افراد نے فلسطینی صدر محمد عباس کی طرح اسرائیلی آباد کاروں پر فلسطینی لڑکے کے قتل کا الزام عائد کیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ چھ یہودی افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ پولیس کو شبہ ہے کہ فلسطین لڑکے کو تین یہودی لڑکوں کو اغوا کے بعد قتل کرنے کے ردعمل میں ہلاک کیا گیا ہے۔

نو عمر فلسطینی لڑکے کے قتل کے بعد مشرقی یروشیلم میں فلسطینی شہریوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں جنہوں نے اسرائیل کے عرب قصبوں اور دیہاتوں کو بھی متاثر کیا ہے۔

دوسری طرف اسرائیل میں بھی تین یہودی لڑکوں کی ہلاکت پر غم و غصہ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ یہ لڑکے مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں 12 جون کو لاپتہ ہو گئے تھے اور ان کی لاشیں گزشتہ پیر کو اس علاقے میں ملیں۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ انہیں حماس کے عسکریت پسندوں نے ہلاک کیا ہے لیکن حماس نے نا تو اس کا اقرار کیا ہے اور نا ہی اس کا انکار کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG