رسائی کے لنکس

اسرائیلی تعیمرات سے امن عمل متاثر ہونے کا خدشہ: اقوام متحدہ


جیفری فیلٹمین

جیفری فیلٹمین

عالمی ادارے کے عہدیدار مسٹر فیلٹمین نے نئی آبادکاری کے تناظر میں کہا کہ "جاری مذاکراتی عمل میں ناکامی اسرائیل اور فلسطین کے لیے نقصان دہ ہوگی۔"

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں نئی تعیمرات کو نہ روکا تو مجوزہ دو ریاستی معاہدے کے لیے مذاکرات کو "ناقابل تلافی نقصان" پہنچ سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیاسی امور کے سربراہ جیفری فیلٹمین نے سلامتی کونسل کے ارکان کو بتایا کہ مذاکرات میں اسرائیل اور فلسطین کے سفارتکاروں نے " اپنے اختلافات کو کم کرنے کی جانب" پیش رفت کی ہے۔

لیکن فیلٹمین نے نئی آبادکاری کے تناظر میں کہا کہ "جاری مذاکراتی عمل میں ناکامی اسرائیل اور فلسطین کے لیے نقصان دہ ہوگی۔"

فلسطینیوں کا کہنا ہے کہ ان تعمیرات سے مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کے درمیان واقع آخری کھلا راستہ بند ہوجائے گا۔

نئی تعیمرات کے اسرائیلی اعلانات سے یہ خدشات پیدا ہوگئے کہ فلسطین جاری مذاکراتی عمل سے علیحدہ ہوجائے گا اور اسی بنا پر اسرائیلی وزیراعظم کو اس منصوبے کو منجمد کرنا پڑا۔

منگل کو مسٹر فیلٹمین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون رکھتے ہیں کہ اسرائیل اس تعمیراتی منصوبے کو مستقل طور پر ختم کردے گا۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان بات چیت کا نیا سلسلہ جولائی میں شروع ہوا تھا۔ دونوں نے عزم کیا تھا کہ یہ نو ماہ تک جاری رہیں گے۔ یہ بات چیت نامعلوم مقام پر ہورہی ہے۔

لگ بھگ پانچ لاکھ سے زائد اسرائیلی آبادکار مغربی کنارے اور مشرقی یروشلیم کے درمیان واقع علاقے میں آباد ہیں۔ اس علاقے پر اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں قبضہ کیا تھا۔

فلسطین اس علاقے کو اپنی مستقبل کی آزاد ریاست کا حصہ قرار دیتا ہے۔ بین الاقوامی برادری اس آبادکاری کو غیر قانونی قرار دے کر مسترد کرتی ہے۔
XS
SM
MD
LG