رسائی کے لنکس

اسرائیل کا شام میں حزب اللہ رہنماؤں پر میزائل حملہ


فائل

فائل

اطلاعات ہیں کہ قافلے میں حزب اللہ کے سابق فوجی سربراہ عماد مغنیہ کے صاحبزادے جہاد مغنیہ اور تنظیم کے اہم کمانڈر ابو عیسیٰ بھی موجود تھے

اسرائیل نے شام میں موجود لبنانی شیعہ تنظیم حزب اللہ کے ایک قافلے پر فضائی حملہ کیا ہے جس میں تنظیم کے بعض اہم رہنماو ٔں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ میں آنے والی اطلاعات کے مطابق ایک اسرائیلی ہیلی کاپٹر نے اسرائیل کے زیرِ قبضہ شامی پہاڑی سلسلے جولان کے نزدیک شام کے صوبے قنیطرہ میں ایک قافلے پر بم برسائے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ قافلے میں حزب اللہ کے سابق فوجی سربراہ عماد مغنیہ کے صاحبزادے جہاد مغنیہ اور تنظیم کے اہم کمانڈر ابو عیسیٰ بھی موجود تھے جو دونوں اپنے تین دیگر ساتھیوں سمیت ہلاک ہوگئے ہیں۔

لبنان کے بعض حکام نے بھی مغربی ذرائع ابلاغ کے ساتھ گفتگو میں اسرائیلی حملے میں حزب اللہ کے ارکان کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔

تاحال یہ واضح نہیں کہ شام میں جاری خانہ جنگی اور اس میں حزب اللہ کی شرکت کے تناظر میں جہاد مغنیہ کیا کردار ادا کر رہے تھے۔ ان کی عمر 20 کے پیٹے میں تھی۔

جہاد مغنیہ کے والد عماد مغنیہ کا شمار حزب اللہ کے بہترین عسکری کمانڈروں میں ہوتا تھا جو اسرائیل اور امریکہ کو دہشت گردی کی کئی بڑی وارداتوں میں مطلوب تھے۔ وہ 2008ء میں دمشق میں ہونے والے ایک کار بم دھماکے میں ہلاک ہوگئے تھے۔

اسرائیلی فوج نے حملے کی اطلاعات کی تصدیق یا تردید کرنے سے گریز کیا ہے تاہم حزب اللہ کے زیرِانتظام لبنانی ٹی وی چینل 'المنار' نے اپنے تبصرے میں حملے کو "حزب اللہ کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں پر اسرائیل کی بوکھلاہٹ کا اظہار" قرار دیا ہے۔

'المنار' کے مطابق اسرائیلی حملہ ایک ایسا "مہنگا شوق" ثابت ہوسکتا ہے جو پورے مشرقِ وسطیٰ کے امن کو داؤ پر لگادے گا۔

حزب اللہ کے ٹی وی چینل نے حملے میں مرنے والوں کی نام ظاہر نہیں کیے ہیں تاہم تصدیق کی ہے کہ ہلاک شدگان میں اس کے کئی جنگجو شامل ہیں۔

اس حملے سے چند روز قبل ہی حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ نے شام میں اسرائیل کی بڑھتی ہوئی فضائی کارروائیوں پر اظہارِ تشویش کرتے ہوئے انہیں کھلی جارحیت قرار دیا تھا۔

حسن نصر اللہ نے خبردار کیا تھا کہ حزب اللہ ایک بڑی طاقت بن چکی ہے اور شامی حکومت اور اس کے دیگر اتحادیوں کو اسرائیلی کارروائیوں کو جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔

یاد رہے کہ شام میں گزشتہ چار سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران حزب اللہ شام کے صدر بشار الاسد کی اہم اتحادی رہی ہے اور تنظیم کے سیکڑوں جنگجو شامی فوجیوں کے شانہ بشانہ سنی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں۔

لبنانی ذرائع ابلاغ اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی حملہ حسن نصراللہ کی تقریر کا جواب ہے جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔

XS
SM
MD
LG