رسائی کے لنکس

اسرائیلی پولیس نے فلسطینی ٹی وی چینل بند کر دیا


چھاپے کے بعد ٹیلی وژن اسٹیشن کے ملازمین سے صحافی انٹرویو لے رہے ہیں۔ 11 جنوری

چھاپے کے بعد ٹیلی وژن اسٹیشن کے ملازمین سے صحافی انٹرویو لے رہے ہیں۔ 11 جنوری

گزشتہ چھ ماہ کی دوران فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف تشدد میں 28 اسرائیلی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی پولیس، فوج اور عام شہریوں نے 180 سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک کیا ہے۔

اسرائیلی پولیس نے رمالہ میں ایک فلسطینی صحافتی ادارے کو اس الزام کے تحت بند کر دیا کہ وہ ٹیلی وژن اور انٹرنیٹ کے ذریعے تشدد پر اکسا رہا تھا۔

اسرائیل کی داخلی سلامتی کے ادارے شین بیت نے کہا کہ ’فلسطین الیوم‘ نامی ٹیلی وژن چینل ’’مغربی کنارے میں جہاد اسلامی کی جانب سے لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے استعمال ہو رہا تھا اور وہ اسرائیل اور اس کے شہریوں پر حملوں پر اکسا رہا تھا۔‘‘

پولیس اور سکیورٹی فورسز نے جمعہ کو علی الصباح اسٹیشن پر چھاپہ مار کر اس کے مینیجر فاروق علیات کو گرفتار کر لیا۔ شین بیت نے اسے ’’ جہاد اسلامی کا آلہ کار بتایا جو اپنی سرگرمیوں کے باعث اسرائیل میں قید رہ چکا ہے۔‘‘

تاہم جہاد اسلامی نے اسرائیلی چھاپے کو ’’قبضے کے ذریعے جبر کی طویل داستان کا ایک اور باب‘‘ کہا ہے۔

گزشتہ چھ ماہ کی دوران فلسطینیوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف تشدد میں 28 اسرائیلی اور دو امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیلی پولیس، فوج اور عام شہریوں نے 180 سے زائد فلسطینیوں اور اریٹریا کے ایک شہری کو ہلاک کیا ہے۔

یہ تشدد ان افواہوں کے بعد شروع ہوا کہ اسرائیل مشرقی یروشلم میں یہودیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقام قبة الصخرة‎ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے جو مسجد اقصیٰ سے متصل ہے۔

اسرائیل نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور فلسطینی رہنماؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ نوجوانوں کو تشدد پر اکسا رہے ہیں۔

فلسطینی اس کی تردید میں کہتے ہیں کہ وہ اسرائیلی جبر، اقتصادی مواقعوں کی فقدان اور امن کا کوئی امکان نظر نہ آنے کے باعث تنگ آ چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG